خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 472 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 472

472 خطبہ جمعہ 23 نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کو غصب کیا گیا۔خدائے واحد ویگانہ کا حقیقی فہم و ادراک رکھنے والے اور ہر قسم کے شرک سے پاک معصوم احمدیوں کو الله اکبر کہنے پر پابندی لگا دی گئی۔عشق رسول عربی ﷺ سے سرشار لوگوں کو حضرت خاتم الانبیاءمحمد مصطفی ﷺ پر درود بھیجنے سے منع کیا گیا اور اس جرم کی سزا یا ان جرموں کی سزا کئی سال قید ہے۔یہ الگ بات ہے کہ احمدیوں کے دلوں سے نہ یہ قانون اللہ تعالیٰ کی محبت چھین سکے ، نہ عشق رسول کے اظہار سے دلوں پر پابندی لگا سکے۔لیکن کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ ان ظلموں کے باوجود جب پاکستان میں تقریباً دو سال ہوئے شدید زلزلہ آیا جس سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔کئی آبادیاں زمین میں دفن ہو گئیں، کئی آبادیاں زمین بوس ہوگئیں تو اس وقت بھی ان سب ظلموں کے با وجود، جو حکومت اپنے قانون کے تحت احمدیوں سے روا رکھتی ہے جماعت نے دل کھول کر آفت زدہ اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی کیمپ لگائے ، کئی مہینے خوراک مہیا کی ، علاج معالجہ کی سہولت مہیا کی۔باوجود اس کے کہ ہمارے کیمپ میں دوائیوں اور دوسری اشیاء کے سٹور پر ایک دفعہ مخالفین نے آگ بھی لگا دی لیکن ہمدردی کے جذبے کے تحت ہم نے اس کام میں فرق نہیں آنے دیا۔پھر زلزلے کے بعد اعصابی امراض کی شکایت بھی بڑھ جاتی ہے، لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں تو کشمیر کے ایک علاقے میں اعصابی امراض کے لئے کروڑوں روپیہ خرچ کر کے ہیومینیٹی فرسٹ نے اعصابی امراض کا ایک وارڈ بنایا، جسے پورا Equiped کیا۔تو ہم نے تو ان کے ظلم کے باوجود اپنا کام کیا اور کئے جاتے ہیں کہ ہماری فطرت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات پیدا کر دی ہے کہ تم نے بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی کرنی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے پیارے کی حمایت میں وارننگ دیتا ہے اور دیتا چلا جارہا ہے اگر ان لوگوں کو سمجھ آ جائے۔اب دیکھیں ایک زلزلہ آیا۔ملک کے ویسے حالات پہلے کیا تھے؟ اور پھر اس میں بد سے بدتر حالات ہوتے چلے جارہے ہیں۔سیاسی بھی ، معاشی بھی۔اب پاکستان میں ہر طرف بے چینی ، فساد قتل و غارت عام پھیلا ہوا ہے۔حکومت وقت کچھ کہتی ہے تو اس بات کے مخالف حکومتی کارندے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حکومت ایک بات کہتی ہے تو عدلیہ دوسری بات کہہ دیتی ہے۔سیاستدان ہیں، وہ ملک کی ہمدردی کی بجائے ، ذاتی اناؤں اور عزتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔پاکستان کا ہر شہری جانتا ہے کہ لاقانونیت زوروں پر ہے۔قانون توڑنے والے بھی اور قانون نافذ کرنے والے بھی اور عدل قائم کرنے والے بھی سب اس دوڑ میں لگے ہوئے ہیں کہ اپنی عزتوں کی حفاظت کی جائے اور ملک کو داؤ پر لگایا دیا جائے۔پہلے اسلام آباد میں حکومت کے اندر حکومت تھی۔اب سوات میں بغاوت پھیلی ہوئی ہے۔وہی لوگ جو حکومت کے پروردہ تھے وہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔سوات میں دیکھیں کیا ہو رہا ہے۔ایک اخبار میں ایک کالم نویس نے کھل کر یہ لکھا ہے کہ یہی شخص جس نے سوات میں اپنی الگ حکومت قائم کی