خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 461
461 خطبہ جمعہ 16 / نومبر 2007 ء خطبات مسر در جلد پنجم بچوں کے لئے بھی سامنے رکھو، جس طرح تم اپنے بچوں اور چھوٹے بھائیوں کے لئے ہمدردی کے جذبات رکھتے ہو اور یہ جذبات رکھتے ہوئے انہیں بگڑنے سے بچانے کی کوشش کرتے ہو، غلط بات پر ٹوکتے اور سمجھاتے ہو، نیک باتوں کی تلقین کرتے ہو، نہ زیادہ سختی کرتے ہو کہ وہ باغی ہو جائیں اور نہ پیار کا سلوک کرتے ہو کہ وہ لاڈ میں بگڑ جائیں۔پس قرآن کریم کی پہلی ہدایت یتامی کے بارے میں یہ ہے کہ ان کی اصلاح ہمیشہ مدنظر رکھو تا کہ وہ معاشرے کا فعال جزو بن سکیں۔اور فرمایا کہ اصلاح اس طرح مد نظر ہو جس طرح تم اپنے قریبی عزیز اور پیاروں کی اصلاح کی طرف توجہ دیتے ہو۔ہمیشہ مد نظر ہو کہ وہ تمہارے بھائی ہیں۔ان کا خیال رکھنا تمہارا فرض ہے۔دوسری جگہ تیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعفًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (النساء: 10) یعنی اور جولوگ ڈرتے ہیں کہ اگر وہ اپنی کمزور اولا د چھوڑ گئے تو ان کا کیا بنے گا، ان کو اللہ کے ڈر سے کام لینا چاہئے اور چاہئے کہ وہ صاف اور سیدھی بات کریں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زندگی اور موت کا تو کسی کو نہیں پتہ، اس لئے اللہ کا خوف رکھتے ہوئے ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں کی جزا دیتا ہے تم قیموں کا خیال رکھوتا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کو بھی ہر قسم کے ہم و غم سے محفوظ رکھے۔پس ہمیشہ تیموں کی ضرورتوں کا خیال رکھو اور خاص طور پر جو دین کی خاطر جان قربان کرتے ہیں ان کا تو بہت زیادہ خیال رکھنا چاہئے تاکہ ان کے بچوں کے دل میں کبھی یہ خیال نہ آئے کہ ہمارے باپ نے دین کی خاطر جان قربان کر کے ہمیں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔بلکہ ہر شہید کی اولاد کو اس بات پر فخر ہو کہ ہمارے باپ نے دین کی خاطر جان قربان کر کے دائمی زندگی پالی اور ہمارے سر بھی فخر سے اونچے ہو گئے۔ہمیشہ ایسے بچوں کو یہ خیال رہے کہ دنیا وی لحاظ سے جماعت نے اور افراد جماعت نے ہمیں یوں اپنے اندر سمو لیا ہے اور ہماری ضروریات اور ہمارے حقوق کا یوں خیال رکھا ہے جس طرح ایک بھائی اپنے بھائی کا رکھتا ہے۔جس طرح ایک باپ اپنے بچے کا رکھتا ہے۔ہمیشہ ان بچوں میں یہ احساس رہے کہ ہماری تربیت کا ہمارے بھائیوں نے بھی اور جماعت نے بھی حق ادا کر دیا ہے۔اگر کسی بچے کا باپ اس کے لئے جائیداد چھوڑ کر مرا ہے تو اس کے قریبی اور اردگرد کے لوگ اس کی جائیداد پر نظر رکھتے ہوئے اسے ہڑپ کرنے کی کوشش نہ کریں، ختم کرنے کی کوشش نہ کریں۔جھوٹے طریقے سے یتیم کو اس کے باپ کی جائیداد سے محروم کرنے کی کوشش نہ کریں۔بلکہ حکم یہ ہے کہ احتیاط سے استعمال کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ (بنی اسرائیل: 35) اور تم یتیم کے مال کے پاس اس کے جوانی کے پہنچنے تک بے احتیاطی سے نہ جاؤ۔یعنی یہ نہ ہو کہ پرورش کے بہانے اس کا مال سارا لگا دو۔اگر تمہارے حالات اچھے ہیں تو جہاں اپنے بچوں کو کھلاتے پہناتے ہو اس کے لئے بھی خرچ کرو۔اور اگر حالات ایسے نہیں کہ