خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 459 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 459

خطبات مسرور جلد پنجم 459 46 خطبہ جمعہ 16 نومبر 2007ء فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2007ء (16 رنبوت 1386 ہجری شمسی ) بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْيَمى۔قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ۔وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ۔وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِح۔وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَاعْنَتَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (البقرة: 221) وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِازْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجِ۔فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِى مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوفٍ۔وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (البقرة: 241) وَالْمُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ۔وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ۔وَبُعُولَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ۔وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔(البقرة: 229) یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو معاشرے کے کمزور طبقے کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ہے تا کہ اس طبقہ میں یہ احساس پیدا نہ ہو کہ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، معاشرے میں ہماری کوئی حیثیت نہیں، زور آور اور طاقتور جس طرح چاہیں ہم سے سلوک کرتے رہیں۔ہر آیت کے آخر پر عزیز اور حکیم کے الفاظ استعمال کر کے یہ احساس اس کمزور طبقے میں بھی پیدا کر دیا کہ اگر طاقت والے تمہارے سے زیادتی کریں اور تمہارے حقوق ادا نہ کریں تو ان کے اوپر ایک عزیز اور غالب خدا ہے جو پھر زیادتی کرنے والوں کو پکڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جو میرے پر حکمت احکامات پر صیح طور پر عمل نہیں کرتے ، میں جو سب طاقتوں کا سر چشمہ ہوں ، ان کو پکڑ وں گا۔اسی طرح قرآن کریم کو الہی کتاب ماننے والوں کو بھی توجہ دلا دی کہ یہ حقوق ایسے نہیں کہ اگر تم ادا نہ کرتے ہوئے زیادتی بھی کر جاؤ تو کوئی حرج نہیں۔فرمایا ہمیشہ ایک مسلمان کو، ایک مومن کو یا د رکھنا چاہئے کہ ان باتوں پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ معاشرے کے امن کی ضمانت ہیں۔ان پر عمل نہ کر کے صاحب اختیار لوگ معاشرے کے امن کو برباد کرنے والے ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر ایمان کا دعوی کر کے ، اپنے آپ کو مسلمان کہلوا کر پھر کمزوروں کے حقوق ادا نہ کرنا اور معاشرے کے امن کو برباد کرنا قابل گرفت ہے۔کمزور طبقے