خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 446

خطبات مسرور جلد پنجم 446 خطبہ جمعہ 02 / نومبر 2007ء پس اللہ کا یہ فضل اب اس قدر بڑھ چکا ہے اور لوگوں کو اس کا فہم و ادراک اس قدر ہو چکا ہے کہ اب فتنہ پرداز لاکھ کوشش کریں یہ پودے جو اب تناور درخت بن چکے ہیں وہ اب ان کو ہلا نہیں سکتے۔کوئی طاقت نہیں ہے جو اب ان کو اکھیڑ سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا تعلق اپنے رب سے اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ اب کوئی طوفان کوئی آندھی اسے ہلا نہیں سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کو کہ قدرت ثانیہ کا دیکھنا بھی تمہارے لئے ضروری ہے اور یہ دائمی ہے اور یہ وعدہ تمہارے لئے ہے اس خوبی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیاروں نے پکڑا ہے کہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر سے دل اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے چلے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس حبل اللہ کے پکڑنے کی برکت سے جماعت کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر کرتا چلا جا رہا ہے۔یہ وہ درخت ہے جو سدا بہار، سرسبز درخت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسے قائم اور سرسبز رکھے۔کبھی ہم میں سے کوئی سوکھے پتے کی طرح اس سے علیحدہ ہو کر گرنے والا نہ ہو اور ہمیشہ ہم وہ فیض پاتے چلے جائیں جن کی اس دوطرفہ تعلق کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر ہمیں خوشخبری عطا فرمائی ہے۔ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مضبوط تعلق اور اس کا فیض ہمارے ایمان کی مضبوطی اور دعاؤں سے مشروط ہے۔پس اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مزید مضبوط کرتے چلے جائیں۔دعاؤں سے اس شجرہ طیبہ کی آبیاری کرتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی اس کی تو فیق عطا فرمائے۔میں ان تمام احمدی ڈاکٹر صاحبان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس دوران میں ہمہ وقت موجود رہ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ آپریشن کرنے والے ڈاکٹر جن کا نام مارکوس ریڈی (Marcuis Reddy) | ہے ان کو بھی جزا دے ان کے ساتھ ہمارے احمدی ڈاکٹر مظفر احمد صاحب تھے جو سر جن ہیں۔پارک سائیڈ ہسپتال میں یہ آپریشن ہوا تھا۔وہاں کی انتظامیہ نے بھی بہت تعاون کیا ہے بلکہ یوں لگ رہا تھا جس طرح کسی احمدی ہسپتال میں ہی یہ آپریشن ہو رہا ہے۔اس بات پر وہاں کا سٹاف، ڈاکٹر اور لوگ حیران تھے کہ آپریشن میں ہر ایک مریض کو کچھ نہ کچھ فکر ہوتی ہے۔مجھے کہ رہے تھے کہ تم بالکل نارمل ہو۔بلکہ کہنے لگے کہ تمہاری گھبراہٹ اور بلڈ پریشر بالکل نارمل ہے جبکہ ہمیں تمہارے سے زیادہ ہے۔میں نے سوچا کہ انکو کیا پتہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل کس طرح ہوتا ہے۔اور لاکھوں احمدیوں کی دعائیں کیا کام کر رہی ہیں۔کیونکہ ان لوگوں میں عموماً یہ خانہ تو خالی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب دعا کرنے والوں کو بھی جزا دے اور ہمیشہ ان کی نیک تمنائیں اور دعائیں پوری فرماتا رہے۔(مطبوعه الفضل انٹرنیشنل لندن مورخه 23 تا 29 نومبر 2007 ء ص 5 تا 8