خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 445 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 445

445 خطبہ جمعہ 02 / نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم پیچیدگی نہ ہو تو زیادہ تکلیف بھی نہیں ہوتی۔لیکن پھر بھی جب سے انہوں نے سنا پڑھے لکھے لوگ بھی جن کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے بلکہ ڈاکٹر ز بھی ، ان پڑھ بھی، عام آدمی بھی ، افریقہ کے رہنے والے بھی اور جزائر کے رہنے والے بھی، یورپ کے رہنے والے بھی ، امریکہ میں رہنے والے احمدی بھی اور ایشیا کے رہنے والے احمدی بھی بڑی فکرمندی کا اظہار کرنے لگے تھے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں لگے اور اس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ انتہائی پیار اور تشکر کے جذبات ان کے لئے ابھرے۔اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان مُحِبّوں اور پیاروں کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔ہر رنج اور ہر غم سے ان کو محفوظ رکھے۔مختلف قوموں اور رنگوں میں اس تعلق نے جو وحدانیت پیدا کی ہے اسے ہمیشہ قائم رکھے۔جیسا کہ میں نے کہا مشرق سے بھی ، مغرب سے بھی ، شمال سے بھی ، جنوب سے بھی، ہر ملک کے رہنے والے نے اس طرح جذبات کا اظہار کیا ہے کہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد زبان پر جاری ہوتی ہے۔بعض خطوں سے تو میں فکر مند ہو گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان پیاروں کے لئے میں بھی اتنا تڑپتا ہوں یا نہیں؟ اللہ کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیاروں سے میرے پیار کے معیار بھی بلند سے بلند تر ہوتے چلے جائیں۔پہلے بھی میں ایک دفعہ درخواست دعا کر چکا ہوں کہ دعا کریں کہ اپنے فرض کو احسن رنگ میں ادا کر سکوں۔اب پھر دعا کی درخواست کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر محبت اور پیار کے ساتھ حق ادا کرنے کی توفیق دے۔جب تک جماعت اور خلافت میں یہ دو طرفہ محبت قائم رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کا قیام اور استحکام رہے گا اور انشاء اللہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق خلافت دائگی ہے یہ محبت بھی دائمی رہے گی ، اس میں کوئی شک نہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو جذبات میں نے دیکھے ہیں وہ یہی بتارہے ہیں اور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ یقینا سچا ہے اور یہ انعام ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت کے فدائی اور شیدائی اب دنیا کی ہر قوم اور ہر ملک میں ہیں۔سچے محبوں کا جو گروہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمایا تھا اس نے اپنی نسلوں میں بھی محبت کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔آج نئی قوموں سے شامل ہونے والے بھی اسی جذبے سے سرشار ہیں۔اس سال یو کے جلسہ پر جونئی شامل ہونے والی جماعتیں تھیں، اس سال کے ممالک تھے ان ملکوں میں سے ایک نو مبائع احمدی آئے تھے۔برازیل کے قریب ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے وہاں کے رہنے والے ہیں۔اب ہمارا وفد جب دوبارہ فرانس سے وہاں گیا تو انہوں نے بتایا کہ جلسے کے بعد جا کر ان نو مبائع نے ایک نئے جوش اور جذبے سے تبلیغ کی مہم شروع کی ہوئی ہے اور اخلاص و محبت کا اظہار اس قدر ہے کہ لوگ حیران ہوتے تھے۔ہر وقت خلافت سے محبت کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔کئی بیعتیں انہوں نے جا کر کروائی ہیں۔تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کے وعدے کا پورا ہونا کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی محبت اور اسلام کی محبت دلوں میں پیدا ہورہی ہے۔