خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 427 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 427

خطبات مسرور جلد پنجم 427 اور پھر یہ الہام بھی ہوا اِنَّهُ قَوِيٌّ عَزِيزٌ کہ وہ قوی اور غالب ہے۔خطبہ جمعہ 19 اکتوبر 2007ء تذکره صفحه 406 ایڈیشن (چهارم) لیکن یہ بھی واضح فرما دیا جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا ہے کہ یہ غلبہ اور فتح جنگ اور قتال کے ذریعے سے نہیں ہو گی بلکہ دلائل کا جہاد ہوگا اور انشاء اللہ تعالیٰ اسی سے غلبہ ملے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ انَا وَرُسُلِي (المجادلة: 22) یعنی خدا نے ابتدا سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنا قانون اور اپنی سنت قرار دے دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء (ﷺ) کا نام پاکر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ جیسا کہ قدیم سے یعنی آدم کے زمانے سے لے کر آنحضرت ﷺ تک ہمیشہ مفہوم اس آیت کا سچا نکلتا آیا ہے ایسا ہی اب بھی میرے حق میں سچا نکلے گا۔کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ جس زمانے میں ان مولویوں اور ان کے چیلوں نے میرے پر تکذیب اور بد زبانی کے حملے شروع کئے اس زمانے میں میری بیعت میں ایک آدمی بھی نہیں تھا۔گو چند دوست جو انگلیوں پر شمار ہو سکتے تھے میرے ساتھ تھے اور فرمایا کہ اس وقت ( جب آپ نے یہ لکھا تھا ) خدا تعالیٰ کے فضل سے 70 ہزار کے قریب بیعت کرنے والوں کا شمار پہنچ گیا ہے جو نہ میری کوشش سے اتنی تعداد ہوئی ہے بلکہ اس ہوا کی تحریک سے جو آسمان سے چلی ہے میری طرف دوڑے ہیں۔اب یہ لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلے کے برباد کرنے کے لئے کس قدر انہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جانکاہی کے ساتھ ہر ایک قسم کے مکر گئے۔یہاں تک کہ حکام تک جھوٹی مخبریاں بھی کیں ، خون کے جھوٹے مقدموں کے گواہ بن کر عدالتوں میں گئے اور تمام مسلمانوں کو میرے پر ایک عام جوش دلایا اور ہزار ہا اشتہار اور رسالے لکھے اور کفر اور قتل کے فتوے میری نسبت دیئے اور مخالفانہ منصوبوں کے لئے کمیٹیاں کیں۔مگر ان تمام کوششوں کا نتیجہ بجز نامرادی کے اور کیا ہوا۔پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ضرور ان کی جان توڑ کوششوں سے یہ تمام سلسلہ تباہ ہو جاتا۔کیا کوئی نذیر دے سکتا ہے کہ اس قدر کوششیں کسی جھوٹے کی نسبت کی گئیں اور پھر وہ تباہ نہ ہوا بلکہ پہلے سے ہزار چند ترقی کر گیا۔پس کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ کوششیں تو اس غرض سے کی گئیں کہ یہ تم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نابود ہو جائے اور صفحہ ہستی پر اس کا نام ونشان نہ رہے۔مگر وہ ختم بڑھا اور پھولا اور ایک درخت بنا اور اس کی شاخیں دور دور چلی گئیں اور اب وہ درخت اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزار ہا پر ند اس پر آرام کر رہے ہیں۔نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحه 380-384 پس یہ تعداد جو بڑھ رہی ہے اور آج دنیا کے 190 کے قریب ملکوں میں جماعت احمد یہ پھیل گئی ہے۔