خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 32
32 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم آپس میں رحم کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک دوسرے سے شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے ہی وحشی جانور اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں۔وہ ایک حصہ انسانوں میں بھی دیا ہوا ہے اور دوسری جاندار مخلوق میں بھی اور اس نے ننانوے رحمتیں اپنے پاس رکھ لی ہیں جن کے ذریعے قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔(سنن ابن ماجه كتاب الزهد باب ما يرجى من رحمة الله يوم القيامة حديث نمبر (4293 تو جیسا کہ پہلی حدیث میں آنحضرت مع اللہ نے فرمایا تھا کہ انسان کی بد بختی ہے کہ پھر بھی اس رحم کو حاصل نہ کر سکے۔اس کے باوجود اگر رحم حاصل نہ کر سکے تو یقینا وہ بدبختی ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ رحم مانگنا چاہئے اور کوئی ایسی حرکت عمد أجان بوجھ کر کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے جس سے اس کے رحم سے انسان محروم ہورہا ہو۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس طرح رحم کرتا ہے اس کی دو مثالیں پیش کرتا ہوں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم عبلہ نے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے ایک شخص تھا جسے اللہ نے مال اور اولا د عطا کی تھی، جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا میں تمہارے لئے کیسا باپ رہا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ سب سے بہتر باپ، آپ بہت اچھے باپ تھے۔اس نے کہا لیکن میں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں چھوڑی اور جب میں اللہ کے حضور پیش ہوں گا تو وہ مجھے عذاب دے گا۔میری کوئی نیکی ہی نہیں ہے۔اس لئے دھیان سے سن لو بغور سے سن لو کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور جب میں کوئلہ بن جاؤں تو مجھے پیس دینا پھر جب شدید آندھی چلے تو میری راکھ کو اس میں اڑا دینا اور اُس نے ان سے اس بات کا بڑا پختہ عہد لیا۔نبی کریم علیہ فرماتے ہیں کہ میرے رب کی قسم انہوں نے ایسا ہی کیا۔پھر جب اس طرح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو اکٹھا کیا تو وہ ایک مجسم شخص کی صورت میں کھڑا ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ اے میرے بندے کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر اکسایا تھا۔اس نے کہا تیرے خوف نے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کی تلافی اس پر رحم کرتے ہوئے کی۔(بخاری کتاب الرقاق باب الخوف من الله عز وجل حدیث نمبر (6481 اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھے اتنا ہی خوف تھا تو اس کا صلہ میں تجھے دیتا ہوں۔تجھ پر رحم کرتا ہوں اور تجھے بخشتا ہوں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے نانوے قتل کئے تھے۔پھر وہ تو بہ کے متعلق پوچھنے کے لئے نکلا۔ایک راہب کے پاس آ کر اس سے پوچھا کہ کیا اب تو بہ ہو سکتی ہے؟ میں نے ننانوے قتل کئے۔میں بہت گناہگار شخص ہوں۔اس