خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 31

31 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم معلوم ہو جائے تو جنت کی کوئی امید نہ رکھے۔اور کا فرجو ہے اس کو رحمت کا پتہ لگ جائے تو اس کو یہی امیدر ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا۔اگر یہی ہو کہ مومن کو کوئی امید نہ ہو تو پھر تو کوئی ایمان لانے کی جرات نہ کرے۔مطلب یہ ہے کہ مومن کیونکہ تقویٰ کی وجہ سے، باقی صفات کا علم ہونے کی وجہ سے ان کا بھی فہم و ادراک رکھتا ہے اور اس میں بڑھ رہا ہوتا ہے اس لئے یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ کسی غلط عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نہ حاصل کرلے، اس لئے ہمیشہ سیدھے راستے پر چلتا رہنے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ دعا ئیں بھی سکھا دی ہیں جو اس سے مانگنی چاہئیں تا کہ وہ جنتوں کا وارث بنتا چلا جائے۔مثلاً سورۃ اعراف میں یہ دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْكَمُتَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِيْنَ (الاعراف : 24) اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو ہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔پس حقیقی مومن وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں لئے رکھے اور اس علم کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے، ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے ڈرتا رہے کہ کہیں میرا کوئی عمل مجھے اس سے محروم نہ کر دے۔جب ایسی حالت ہوگی تو پھر ایک مومن پر رحمتوں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش بھی دوسروں سے بڑھ کر نازل ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو ، خواہ باطن کا ہو ،اسے علم ہو یا نہ ہو سب قسم کے گنا ہوں سے استغفار کرتا رہے۔پھر فرمایا کہ آج کل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہیے، رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِيْنَ (الاعراف: 24) “ فرمایا کہ یہ دعا اول ہی قبول ہو چکی ہے۔(ملفوظات جلد 2 صفحه 577 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه پس مومن کو جہاں فکر مند ہونا چاہئے وہاں تسلی بھی رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت سے مزید نواز نے کے لئے دعا بھی سکھا دی ہے۔اور پھر مومنوں کو ایک اور جگہ اس طرح بھی تسلی دی ہے کہ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ الله (الزمر: 54) کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔تو یہ حدیث مایوس کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ ایک تو یہ وضاحت ہے ، جس طرح کہ میں نے کی ہے، دوسرے یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کی رحمت دوسروں کے لئے ہے اور ننانوے حصے اس کے پاس ہیں تو اس سے یقینا تمہیں بھی بہت حصہ ملنا ہے، ان اعمال کی وجہ سے جو دوسروں سے بڑھ کر تم کرنے والے ہو جس کا فہم و ادراک تم رکھتے ہو۔پھر ایک روایت ہے جو پہلی سے ملتی جلتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے لئے سورحمتیں ہیں۔اُن میں سے اُس نے ایک حصہ رحمت تمام مخلوقات میں تقسیم کر دی ہے جس سے وہ