خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 408
408 خطبه جمعه 05 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ملاقات کا وعدہ کیا اور ملاقات پر بتایا کہ وہ پڑھے لکھے انسان ہیں اور امریکن یونیورسٹی بیروت سے 60 کی دہائی میں فارغ التحصیل ہوئے اور پھر 70 کی دہائی میں فوج میں ایک آفیسر کے طور پر رہے اور پھر سعود یہ ائر فورس میں بھی رہے۔انہوں نے بتایا انہیں کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے، خصوصاً تصوف کی کتابوں کا بہت شوق ہے۔پھر بتایا کہ گزشتہ خیالات پر اپنے آپ کو ملامت کرتے ہیں کہ مخالفین کی کتابیں پڑھ کر جماعت کو کا فرسمجھتا تھا کیونکہ جماعتی کتا ہیں باوجود کوشش کے میسر نہ تھیں۔اب وہ ہمارے چینل کے پروگرامز با قاعدگی سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح موعودؓ کی صداقت ان کے دل میں نقش ہو چکی ہے اور تصوف میں ادراک رکھنے کی وجہ سے حضور اقدس کی کتابوں میں بیان معرفت کے نکات کو فور اسمجھ جاتے ہیں، بلکہ محفوظ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسے الفاظ کسی جھوٹے کے منہ سے نہیں نکل سکتے بلکہ یہ کلام ایک عارف حقیقی کا کلام ہے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ اکثر لوگ پہلے بحث کرتے تھے ، اعتراضات اٹھاتے تھے، دلائل اور براہین کا مطالبہ کرتے تھے لیکن اب اس کے بالکل برعکس ایسی ہوا چلی ہے کہ جو لوگ ملتے ہیں متفق ہوتے ہیں اور بہت سارے ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دیدار کرایا ہوتا ہے۔تو اگر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور اس سے دعا کریں تو اللہ تعالیٰ ضرور رہنمائی فرماتا ہے۔لیکن ہمارا بھی کام ہے کہ ان لوگوں کی رہنمائی کے لئے دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔پس اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ تو ہر روز اپنی تائید ونصرت کے نظارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھا رہا ہے، لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہماری بھی ذمہ داری ہے، جو خدا تعالیٰ نے لگائی ہے کہ جو تمہارے وسائل ہیں، جس حد تک تم دلوں کو پاک کر دینے والے اس پیغام کو پھیلانے میں کردارادا کر سکتے ہو تم ادا کرو تا کہ اس ثواب سے، اُن برکات سے حصہ لینے والے بن سکو جو اللہ تعالیٰ کے اس مسیح و مہدی ، جری اللہ کی جماعت سے وابستہ رہنے والوں کے لئے مقدر ہیں۔پس اس مقصد کو بھی ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے۔نیکی اور تقوی کے اعلیٰ مدارج کی تلاش میں ہر احمدی کو رہنا چاہئے۔ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے اور اس کو مقصد بنانا چاہئے کہ میں نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر جس زندگی کو حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے، کیا حقیقت میں میرے اندر اس زندگی کے آثار نظر آ رہے ہیں جس کا آپ نے دعوی کیا تھا۔کہ میرے ماننے والوں کی زندگی میں پیدا ہوگی۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی غرض اس جماعت سے یہ ہے کہ گمشدہ معرفت کو دوبارہ دنیا میں اس جماعت کے ذریعہ قائم کر دے۔پس اس گمشدہ معرفت کو قائم کرنے کے لئے جہاں ہمیں اپنے اعمال پر نظر رکھنی ہوگی، جہاں