خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 405

405 خطبه جمعه 05 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم پس بجائے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف چل کر اپنی دنیا و عاقبت خراب کرنے کے اللہ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے، اس سے مدد مانگنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ یا اللہ ! جس امت کے بارے میں تو نے فرمایا تھا کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران : 111) یعنی تم سب اُمتوں سے بہتر ہو جو لوگوں کی اصلاح کے لئے پیدا کئے گئے ہو لیکن اس کے ظاہری حالات تو ایسے نظر نہیں آتے۔دوسروں کی اصلاح کیا کرنی تھی ، ہمارے تو اپنے حالات بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔پس جب درددل سے یہ دعائیں کی جائیں گی تو اللہ تعالیٰ جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے، ان کو سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو صحیح رہنمائی کرتا ہے۔لیکن اُمت کی اکثریت تو غلط اور مفاد پرست علماء اور حکام کے پیچھے چل پڑی ہے اور اپنے دل کا جو اخلاص ہے اس کو ان کے پیچھے چل کر ضائع کر رہی ہے۔یہ دعا بھی آج اُمت کی ہمدردی میں، آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والوں کی ہمدردی میں اگر کوئی کرنے والا ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت کے افراد ہی ہیں۔آپ نے ہی یہ دعا کرنی ہے کہ اے اللہ ! ان کے دلوں کو پاک کر، ان دلوں پر تیرا ہی قبضہ ہے۔آخر یہ لوگ ہمارے محبوب آقا اور مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں۔ان لوگوں کو عقل دے کیونکہ بجز تیرے ان کے سینوں کو کھولنے والا اور ان کے دماغوں کو روشن کرنے والا اور کوئی نہیں۔اب سوائے تیرے ان کو کوئی نہیں بتا سکتا کہ زندگی کیا ہے اور موت کیا ہے؟ اے اللہ ! تو ان کو بتا کہ صرف منسوب ہونے سے زندگی نہیں ملتی بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ جس بات کی طرف بلا رہے ہیں ، جن باتوں کو کرنے کا حکم دے رہے ہیں، ان کی طرف جانے اور ان پر عمل کرنے سے زندگی ملتی ہے۔پس اے اللہ! ان لوگوں کے دلوں پر سے زنگ اتار دے۔ان کو زمانے کے امام کی مخالفت کرنے کی بجائے اسے پہچانے کی تو فیق عطا فرما۔پس یہ دعا کرنا بھی آج ایک احمدی کی ذمہ داری ہے بلکہ فرائض میں داخل ہے ، ورنہ ہم اپنے فرائض کی بجا آوری کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔ان نام نہاد علماء نے احمدیت کے بارے میں غلط باتیں پھیلا کر عجیب خوفناک ماحول پیدا کر دیا ہوا ہے۔کئی سعید فطرت ہیں جو احمدیت کو سچ سمجھ کر قبول کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے معاشرے کے خوف سے خاموش ہو جاتے ہیں۔کئی مرد اور خواتین جرأت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔احمدیت قبول کرتے ہیں تو پھر عزیزوں اور رشتہ داروں کی طرف سے ، ماحول کی طرف سے طرح طرح کے ظلم سہنے پڑتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک رپورٹ تھی کہ ایک لڑکے نے احمدیت قبول کی تو اس کے گھر والوں نے اسے باندھ کر خوب مارا اور کئی دن گھر میں باندھے رکھا۔ابھی چند دن ہوئے سوئٹزر لینڈ سے ایک اطلاع آئی تھی ، ہمارے ایک احمدی نے خط لکھ کر یہ اطلاع دی تھی کہ