خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 403
403 خطبه جمعه 05 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم بڑھاتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشتا ہے اور پاکیزہ قو تیں اور پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرما تا ہے اور علوم یقینیہ اور براہین قطعیہ سے خدا تعالیٰ کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے۔اور یہ علوم جو مدار نجات ہیں یقینی اور۔۔قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیں ہو سکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعویٰ ہے کہ وہ حیات روحانی صرف متابعت اس رسول کریم سے ملتی ہے اور تمام وہ لوگ جو اس نبی کریم کی متابعت سے سرکش ہیں وہ مُردے ہیں جن میں اس حیات کی روح نہیں ہے اور حیات روحانی سے مراد انسان کے وہ علمی اور عملی قوی ہیں جو روح القدس کی تائید سے زندہ ہو جاتے ہیں۔(آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحه 194 تا 196) | جوالفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ ﷺ کے مقام ومرتبہ کے بارے میں بیان فرمائے ہیں کیا کوئی برابری کرنے والا یا برابری کا خیال کرنے والا ایسے الفاظ استعمال کر سکتا ہے؟ پس ہم تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق اس بات کے ماننے والے ہیں کہ روحانی زندگی کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی ذات کو بنایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو آپ کے عاشق صادق اور ایک ادنیٰ غلام ہیں جنہیں اس زمانے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کو زندگی بخشنے کے لئے آپ کی متابعت میں اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے تا کہ پھر سے دنیا میں وہ گر وہ قائم ہو جو اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے روحانی زندگی حاصل کرنے کے لئے ، اپنی روحانیت کو نکھارنے کے لئے ،اس امام کے ہاتھ پر جمع ہو جائے۔مسلمانوں کا یہ کہنا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم نے آنحضرت ﷺ کو مان لیا ہے اس لئے اب کسی اور کو ماننے کی ضرورت نہیں ، یہ ان کی غلطی ہے۔یہ امام جس کی قرآن کریم میں پیشگوئی ہے اور جس کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جب وہ آئے تو میر اسلام کہنا ، اس پر ایمان لانا بہر حال ضروری ہے ، اس کے بغیر ایمان مکمل ہی نہیں ہوتا۔تبھی ایک مسلمان روح القدس سے تائید یافتہ کہلا سکتا ہے جب اس امام پر بھی کامل ایمان ہو۔پس ایمان مکمل کرنے کے لئے اور روحانی زندگی کے لئے اس زمانے کے امام کا ماننا ضروری ہے اور لازمی ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جیسا کہ ایک جگہ فرمایا کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ (النساء: 137) یعنی اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور رسول پر ایمان لاؤ۔ایمان تو پہلے ہی لے آئے ہو پھر دوبارہ کیوں کہا گیا کہ ایمان لاؤ ؟ اس لئے کہ بہت سے لوگوں کا ایمان لانے کا جو دعویٰ ہے وہ صرف منہ کی باتیں ہیں۔اس لئے اے ایمان لانے والو! حقیقی مومن کہلانے کے لئے اپنے دلوں کو ایمان سے بھر و۔اور اس زمانے میں ایک مسلمان حقیقی مومن اس وقت کہلائے گا جب آنحضرت ﷺ کے اس عاشق صادق پر بھی ایمان لانے والا ہو گا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ