خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 401
خطبات مسرور جلد پنجم 401 (40) خطبه جمعه 05 اکتوبر 2007ء فرمودہ 5 /اکتوبر 2007ء بمطابق 5 را خاء 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَ لِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَايُحْيِيكُمُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّةٌ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ۔(الانفال : 25) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو۔جو ایمان لائے ہو! اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہا کرو، جب وہ تمہیں بلائے تا کہ وہ تمہیں زندہ کرے اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے اور یہ بھی جان لو کہ تم اس کی طرف اکٹھے کئے جاؤ گے۔جیسا کہ ہر احمدی جانتا ہے کہ ہراحمدی بھی اور ہر وہ شخص بھی جو بیعت کر کے جماعت میں نیا داخل ہوتا ہے تو وہ حقیقت میں یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر آپ کو مسیح و مہدی مان کر اپنے آپ کو دراصل اس گروہ میں شامل کرنے کا اعلان کرتا ہوں جو حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنے والے ہیں۔وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ آج میں اللہ تعالیٰ کے قرآن کریم میں بیان کردہ تمام احکامات اور تمام پیشگوئیوں پر ایمان لانے والا بنتا ہوں۔وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ آج میں حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء ﷺ کی تمام پیشگوئیوں پر کامل ایمان لانے والا بنتا ہوں۔وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ آج میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے تمام احکامات پر عمل کرنے کا عہد کرتا ہوں تا کہ ایک روحانی زندگی پاؤں۔اگر اس کے سوا کسی کے ذہن میں کوئی بات آتی ہے تو وہ اس دعوے میں جھوٹا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود اور مہدی معہود ہیں۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر پابندی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب سے پہلے تو شرائط بیعت میں بڑے واضح طور پر بیان فرما دیا ہے کہ احمدیت ہے ہی خدا اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی پابندی کا نام۔جیسا کہ بیعت کی تیسری شرط میں بیان ہوا ہے کہ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا۔نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے میں مداومت اختیار کرے گا۔پھر پانچویں شرط میں ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا۔پھر چھٹی شرط میں ہے کہ قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کریگا