خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد پنجم 30 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء رحمانیت کی یہ تجلی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے ہم احادیث میں دیکھیں گے۔جہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنی رحمانیت کے جلوے دکھاتا ہے۔وہاں ہر جگہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب اس صفت کے بارے میں بیان فرماتے ہیں تو آپ کے الفاظ میں ایک خاص رنگ ہوتا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق صفت رحمانیت سے زیادہ سے زیادہ فیض پا سکے، مومن اس سے زیادہ سے زیادہ فیض پاسکیں۔پھر بعض احادیث جانوروں کے بارے میں بھی ہیں کہ ان سے کس طرح رحم کا سلوک ہونا چاہئے۔وہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اس رحمۃ للعالمین کا جذبہ رحم ، رحمن خدا کی مخلوق کی تکلیف دور کرنے کے لئے کس شدت رحم سے بے چینی کا اظہار کرتا ہے۔گزشتہ خطبے میں میں نے ایک حدیث کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بے چینی کا ذکر کیا تھا۔آپ نے فرمایا تھا: کیوں لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے باوجود اپنی بدبختی کی وجہ سے اس کے عذاب کا مورد بنتے ہیں۔اس تعلق میں دوسری حدیث یہ ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو صادق و مصدوق ابوالقاسم اور جھونپڑی والے ہیں، یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رحمت تو صرف بد بخت سے ہی چھینی جاتی ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 مسند ابى هريرة حدیث نمبر 7988۔ایڈیشن 1998ء عالم الكتب۔بيروت) | اس حدیث میں جہاں یہ ذکر ہے کہ رحمت بد بخت سے چھینی جاتی ہے وہاں اس انذار کے ساتھ ساتھ عیل اللہ نے اللہ تعالیٰ کی ایک وسیع رحمت کی بشارت بھی دی ہے کہ جو اللہ تعالی کی حدود سے تجاوز کرنے والے نہیں ہیں، وہ پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم نہیں رہتے۔بلکہ محرومی ان کے لئے ہی ہے اور وہی اس محرومی کا مورد بنتے ہیں جو ان حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔تو ایک مومن کی یہی خواہش ہونی چاہئے اور یہی کوشش ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت سے حصہ لے اور باقی صفات سے بھی تاکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا زیادہ سے زیادہ وارث بنے۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا کے بارے میں معلوم ہو جائے تو جنت کی کوئی بھی امید نہ کرے اور اگر کافرکو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ کے پاس کتنی رحمت ہے تو کوئی بھی جنت سے مایوس نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے رحمت کو سو حصوں میں پیدا کیا جن میں سے ایک حصہ مخلوقات میں رکھ دیا۔جس سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس رحمت کے ننانوے حصے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 مسند ابی هریره حدیث نمبر 10285 ایڈیشن 1998ء عالم الكتب، بيروت) ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں جو دیکھتے ہیں، بشمول انسان اور جو دوسری جاندار مخلوق ہے وہ صرف ایک حصہ رحمت کا ہے جو وہ ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔مومن کا جنت سے نا اُمید ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مومن ہونے کے بعد انسان رحمانیت سے محروم ہو جاتا ہے۔فرمایا کہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا کے بارے میں