خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 395

خطبات مسرور جلد پنجم 395 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007 ء بعض باپ ماؤں سے بچے چھین لیتے ہیں یا بعض مائیں باپوں کو بچوں کے ذریعہ تکلیف پہنچاتی ہیں اور نہ صرف یہ کہ دونوں طرف کے لوگ خود یہ دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ بچوں سے باپ کا یا ماں کا سایہ دُور رہے بلکہ مجھے بھی دعا کے لئے لکھتے ہیں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ماں کے یا باپ کے سائے سے محروم رکھے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حکم تو یہ ہے کہ نہ ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف دو، نہ باپ کو بچے کی وجہ سے تکلیف دو اور جب ایسے جھگڑے ہوتے ہیں اور قضاء میں مقدمے بھی جاتے ہیں۔دونوں طرف سے حقوق کا تعین بھی ہو جاتا ہے، پھر ایسی دعائیں کر رہے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے حقوق غصب کر رہے ہوتے ہیں۔تو ایسی جو دعائیں ہیں اس عمل کے بعد پھر وہ بھی قبولیت کا درجہ نہیں پاتیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی تعلیم کے خلاف کاموں کو قبول نہیں کرتا ، قبولیت کا درجہ نہیں دیتا۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی لکھا ہے کہ ایک شخص خانہ کعبہ میں حج پر گیا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ میری محبوبہ کا خاوند اس سے ناراض ہو جائے تاکہ وہ مجھے مل جائے۔ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک چور نے بتایا کہ میں چوری پر جانے سے پہلے دو نفل نماز پڑھتا ہوں کہ اللہ میاں مجھے کامیابی عطا کرے۔تفسير كبير جلد 2 صفحه (405 یعنی نعوذ باللہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے ظلم اور بدکاری میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔اسی طرح بعض نام نہاد پیر ہیں اور بزرگ ہیں وہ بھی اپنی دعاؤں کی قبولیت کے دعوے کرتے ہیں۔بعض جاہل ان سے بڑے متاثر ہو رہے ہیں۔بعض ایسی کہانیاں قبولیت دعا کی اپنی بیان کر رہے ہوتے ہیں جو سراسر جھوٹی اور خلاف عقل اور خلاف قانون شریعت ہوتی ہیں۔اسی طرح ٹونے ٹو ٹکے کرنے والے لوگ ہیں۔جاہلوں کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نہ تو ایسی دعاؤں کو سنتا ہے اور نہ ہی ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے قریبی ہیں یہ سب جھوٹے دعوے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم احمدی جنہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے اس جہالت سے پاک ہیں۔پس اپنی دعاؤں کو اس طریق پر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ایسی دعائیں کروانی چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر لے جانے والی ہوں اور اللہ کا قرب دلانے والی ہوں۔پھر نویں بات جو دعاؤں کی قبولیت کے لئے ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئے یہ ہے کہ دعا ئیں صرف تکلیف اور تنگی کے وقت نہ مانگی جائیں۔ایسے حالات میں نہ ہوں کہ جب تکلیف اور تنگی پہنچی تو دعائیں کی جارہی ہوں بلکہ امن اور اچھے حالات میں بھی خدا کو یا درکھا جائے۔صرف رمضان میں ہی نیک اعمال کی طرف توجہ پیدا نہ ہو بلکہ عام دنوں میں بھی نیکیوں کی طرف توجہ ہوتو پھر رمضان میں کی گئی دعائیں بھی پہلے سے بڑھ کر قبولیت کا درجہ پانے والی ہوتی ہیں۔پھر دسویں بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق دعا کرنے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ