خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 393

393 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم کی توبہ قبول کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اس اقرار کو جائز قرار دیتا ہے جو کہ بچے دل سے تو بہ کرنے والا کرتا ہے۔فرماتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کا اقرار نہ ہوتا تو پھر تو بہ کا منظور ہونا ایک مشکل امر تھا۔سچے دل سے جو اقرار کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر خدا تعالیٰ بھی اپنے تمام وعدے پورے کرتا ہے جو اس نے تو بہ کرنے والوں کے ساتھ کئے ہیں اور اسی وقت سے ایک نور کی تجلی اس کے دل میں شروع ہو جاتی ہے جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گناہوں سے بچوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“۔البدر۔جلد 2 نمبر 14 مورخه 24 اپریل 1903ء صفحه 107) پس جب گنا ہوں سے بچنے کی کوشش ہوگی اور ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارا بھی جار ہا ہوگا کہ اے خدا تو کہاں ہے؟ میں تیرے نبی ﷺ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں ، ان گناہوں سے چھٹکارا پانے کی دعا کرتا ہوں، اور مجھے ان سے چھٹکارا دلا۔تو یہ دعا پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچنے والی ہوگی اور قبولیت کا درجہ پائے گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر جھکنے والا بندہ فَانِي قَرِيبٌ کی آواز سنے گا۔پس گنا ہوں سے نجات حاصل کرنے کی دعا بھی اللہ تعالیٰ کا عبد بنانے کے لئے دعاؤں کی قبولیت کے لئے ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ “ یا درکھو کہ سب سے اول اور ضروری دعا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گنا ہوں سے پاک صاف کرنے کی دعا کرے۔ساری دعاؤں کا اصل اور جزو یہی دعا ہے کیونکہ جب یہ دعا قبول ہو جاوے اور انسان ہر قسم کی گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک صاف ہو کر خدا تعالیٰ کی نظر میں مظہر ہو جاوے تو پھر دوسری دعا ئیں جو اس کی حاجات ضروریہ کے متعلق ہوتی ہیں وہ اس کو مانگنی بھی نہیں پڑتیں ، وہ خود بخود قبول ہوتی چلی جاتی ہیں۔ملفوظات جلد 3 صفحه 617 جدید ایڈیشن مطبوعه (ربوه پس اپنی دوسری حاجات بھی اگر پوری کرنی ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے اس نسخے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔جیسے آپ فرماتے ہیں۔" تم اپنے آپ کو پاک کرنے کی کوشش اور اس کے لئے دعا کرو تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ہر مشکل گھڑی میں اس کے کام آئے گا۔اس کو اِنِّی قَرِيبٌ کا نظارہ دکھائے گا اور اسے اپنی آغوش میں لے گا ، ضروریات اس کی پوری کرے گا۔پھر یہ بات پہلے بھی آگئی ہے لیکن اس کو علیحدہ بھی رکھا جاتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ قبولیت دعا کے لئے دین کو دنیا پر مقدم کرنا بھی ضروری ہے۔دین کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی لہو ولعب چھوڑ نا ضروری ہے۔ہمارے عہد میں بھی ایک فقرہ ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا ، خدام الاحمدیہ کے عہد میں بھی ہے۔اسی طرح آٹھویں شرط بیعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر ایک عزیز سے زیادہ تر