خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 392
392 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم ہے۔قبولیت دعا کے جلوے بھی دکھاتا ہے۔یہ پختہ ایمان بھی اللہ تعالیٰ پر ہو۔پھر دعا ئیں بھی قبول ہوتی ہیں۔پھر تیسری بات یہ کہ ایمان بھی کامل ہو۔گو کہ تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں لیکن اب اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی ﷺ کو فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ اب تیرے ساتھ جڑ کر ہی دنیا قبولیت دعا کے نظارے دیکھ سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ساتھ تعلق اب اسی کا ہو گا جو میرے نبی پر کامل ایمان لانے والا ہو گا۔فرمایا وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی یعنی جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں اور اے محمد ﷺ تو ہی ہے جو میرے بندوں کی حقیقی رہنمائی کر سکتا ہے، ان بندوں کو راستہ دکھا سکتا ہے جو میری تلاش میں ہیں۔اس لئے آنحضرت ﷺ پر بھی ایمان کامل ہوگا تو خدا تعالیٰ تک رسائی ہوگی۔باقی مذاہب بھولی بسری یادیں بن چکے ہیں۔گو تمام انبیاء پر ایمان بھی ضروری ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے راستے دکھانے کا اختیار صرف اب اے محمد ! تجھے ہی ہے اور تجھ پر ایمان یہ تقاضا کرتا ہے کہ تیری بتائی ہوئی جو پیشگوئیاں ہیں ان پر بھی کامل یقین ہو۔اس بات پر بھی یقین ہو اور اس پر ایمان بھی ہو کہ نشانات اور پیشگوئیاں پوری ہونے پر تیرے غلام صادق کو جب خدا تعالیٰ نے دنیا میں بھیجا ہے تو اس کو ماننا بھی ایمان کی ایک شرط ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانیں گے وہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر کامل ایمان لانے والے ہوں گے اور وہی قبولیت دعا کے نظارے پہلے سے بڑھ کر مشاہدہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہی لوگ ہیں جو میری ” اِنِّی قَرِيبٌ “ کی آواز سنیں گے۔پھر چوتھی بات یہ کہ سوال خدا کی رضا کے حصول کے لئے ہو ، خدا کو پانے کے لئے ہو۔یہ خواہش ہو کہ خدا تعالیٰ مجھے مل جائے۔جب اس نیت سے سوال ہو گا ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرے بارے میں سوال ہوگا ، میری لقاء حاصل کرنے کے لئے سوال ہوگا تو بندہ مجھے قریب پائے گا۔اگر خدا کو پکارنے کا مقصد صرف اپنی دنیاوی ضروریات کو پورا کرنا ہی ہوگا۔اگر خدا صرف اس وقت یاد آئے گا جب کوئی دنیاوی خواہش پوری کرنی ہو، نہ کہ اللہ تعالیٰ کا وصال اور اس کا پیار حاصل کرنا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو پھر یکطرفہ بات ہوگی۔یہ تو خود غرضی ہے۔اگر میرا جواب سننا ہے تو فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی پر بھی عمل کرنا ہوگا۔میری بات پر لبیک کہنا ہوگا تبھی تمہیں میری طرف سے جواب بھی ملے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چاہئے کہ میرے حکموں کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لاویں۔تاکہ ان کا بھلا ہو۔(پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحه (472 پھر دعا کی قبولیت کے لئے پانچویں بات یہ ہے کہ انسان تمام گنا ہوں سے بچنے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یعنی میں تو بہ کرنے والے