خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 391
391 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم اللہ رسول پر ایمان لائے ہیں یہ پتہ پوچھنا چاہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے کیا عنایات رکھتا ہے جو ہم سے مخصوص ہوں اور غیروں میں نہ پائی جاویں۔تو ان کو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں یعنی تم میں اور تمہارے غیروں میں یہ فرق ہے کہ تم میرے مخصوص اور قریب ہو اور دوسرے مہجور اور دُور ہیں۔جب کوئی دعا کرنے والوں میں سے، جو تم میں سے دعا کرتے ہیں، دعا کرے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں۔یعنی میں اس کا ہم کلام ہو جاتا ہوں اور اس سے باتیں کرتا ہوں اوراس دعاکو پا جگہ ہوں۔میرے اور اور اس کی دعا کو پایہ قبولیت میں جگہ دیتا ہوں۔پس چاہئے کہ قبول کریں حکم میرے کو اور ایمان لاویں تا کہ بھلائی پاویں۔جنگ مقدس روحانی خزائن جلد 6 صفحه 146 مطبوعه لندن) پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو کہ تمہیں یہ ماحول بھی میسر آ گیا ہے جو دعاؤں کی قبولیت کا ماحول ہے۔اس مہینہ میں شیطان جکڑا بھی گیا ہے، جنت بھی قریب کر دی گئی ہے۔لیکن اس کے باوجود فیض وہی پائے گا جو میری شرائط کی پا بندی کرے گا جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اس یقین پر قائم ہو کہ خدا ہے۔خدا کی ذات پر ایسا پختہ یقین ہو جس کو کوئی چیز بھی ہلا نہ سکے۔یہ یقین ہو کہ زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ ہے اس کو پیدا کرنے والا ایک خدا ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، ہر چیز کا مالک ہے ، ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔اس نے اپنی ربوبیت کی وجہ سے بلا امتیاز مذہب اور قوم ہر ایک کی جسمانی ضروریات کا خیال رکھا ہوا ہے حتی کہ چرند پرند بھی سب اس کی ربوبیت سے فیض پارہے ہیں۔ہوا پانی روشنی کھانے پینے کی چیزیں اس نے سب کو مہیا کی ہوئی ہیں۔وہ تمام صفات کا جامع ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔پس پہلی شرط یہ ہے کہ جامع الصفات خدا پر پختہ یقین ہو۔دوسری بات یہ کہ صرف یہ یقین نہیں کہ خدا ہے، کوئی پیدا کرنے والا ہے بلکہ اس پر ایمان بھی کامل ہو اور یہی کوشش ہو کہ اب جو بھی ایمان ہمیں میسر ہے اور جو بھی ہماری دعائیں ہیں وہ اس نے ہی قبول کرنی ہیں اور اس کو حاصل کرنے کی ہم نے کوشش کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ کا وصل ڈھونڈھنے کی ہم نے کوشش کرنی ہے۔اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اس کے لئے ہم نے اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے ، خدا ترسی پیدا کرنی ہے، اپنے آپ کو پاک کرنا ہے۔اور یہی ایمان کامل کرنے کا ذریعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” پس چاہئے کہ اپنے تئیں ایسے بناویں کہ میں اُن سے ہمکلام ہو سکوں۔(لیکچر) لاهور روحانی خزائن جلد 20 صفحه 159 اور یہ مقام جو ہے ایمان کامل ہونے پر ہی ملتا ہے۔اس لئے ایمان کامل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔یعنی اس بات پر ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ دعاؤں کو سنتا ہے انہیں قبول کرتا ہے بلکہ جب ایمان میں ترقی ہوتی ہے، اس کا قرب حاصل ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ بندے سے بولتا بھی ہے۔رحمانیت کی وجہ سے یا اس کے صدقے جو خدا تعالیٰ نے انعامات کئے ہیں، جب بندہ اس کے قریب ہوتا ہے، جب ایمان میں ترقی کرتا ہے تو رحیمیت کے جلوے بھی وہ دکھاتا