خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 381

خطبات مسرور جلد پنجم 381 38 خطبہ جمعہ 21 ستمبر 2007 ء فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2007ء بمطابق 21 رتبوک 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشهد ، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ۔وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدى وَالْفُرْقَانِ۔فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ۔وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أَخَرَ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔(البقرة: 185-186 ) ان آیات کا ترجمہ ہے کہ گنتی کے چند دن ہیں پس جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایام میں پورے کرے۔جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔پس جو کوئی بھی نفلی نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہت اچھا ہے اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے، اگر تم علم رکھتے ہو۔رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایام میں ہو گا۔اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا، اور چاہتا ہے کہ تم سہولت سے گنتی کو پورا کر واس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا کی اور تا کہ تم شکر کرو۔گزشتہ خطبہ میں رمضان میں روزوں کی فرضیت کا ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے روزے فرض قرار دیئے ہیں جو ایک مجاہدہ ہے اور مجاہدہ ہی ہے جس سے تقوی میں ترقی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیات میں جو میں نے تلاوت کی ہیں اس کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔یہ گنتی کے چند دن جو تمہاری تربیت کے لئے تمہیں مجاہد بنانے کے لئے رکھے گئے ہیں تمہارے لئے اس لئے فرض کئے گئے ہیں کہ انسان کی زندگی کا جو مقصد ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا عابد بننا، اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر ظلم نہیں کرتا گو کہ روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے اور یہ ایک مجاہدہ بھی ہے بعض دفعہ تکلیف بھی اٹھانی پڑتی ہے لیکن ظلم نہیں ہے کہ روزہ