خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 374

374 خطبہ جمعہ 14 ستمبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم انعامات سے حصہ لینے والے بنو گے، اُس کی جنتوں کے وارث بنو گے جیسا کہ فرماتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جنتنِ (الرحمن : (47) یعنی جو بھی اپنے رب کی شان سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اس کے مقام کو پہچانو کہ تمام قدرتوں کا وہی مالک ہے۔اسی کا خوف سب سے زیادہ تمہارے دلوں پر ہونا چاہئے۔پھر اس دنیا میں بھی اس کی جنتوں سے حصہ لو گے اور اُخروی زندگی میں بھی اُس کے انعامات اور جنتوں کے وارث ٹھہرو گے۔پس ہر احمدی مسلمان کو تقویٰ میں ترقی کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جنتوں کا وارث ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کے مقام کی پہچان ضروری ہے۔اور یہ پہچان اس وقت ہوگی جب خالص اللہ تعالیٰ کے ہوتے ہوئے اس کے احکامات پر عمل کرو گے اور اللہ تعالیٰ نے ان احکامات میں سے ایک حکم رمضان میں روزوں کی پابندی کا ہمیں دیا۔ہے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ایک ایسی کتاب کو ماننے والے ہیں جو کامل اور مکمل کتاب ہے۔اس کتاب کے ماننے والے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو کمال تک پہنچانے کا اعلان فرمایا ہے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اس شریعت کے ماننے والے ہیں جس کو تا قیامت قائم رکھنےکا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اس آخری شرعی نبی ﷺ کو ماننے والے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء کہہ کر تمام نبیوں اور رسولوں سے افضل بنا دیا ہے۔پہلے رسول اپنی قوم کو تقویٰ پر قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن قوموں کی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کے احکامات لاتے رہے۔لیکن قرآن کریم تمام دنیا کی تمام قوموں اور تمام زمانوں کی اصلاح کے لئے احکامات لے کر آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا۔تقوی پر قائم رکھنے کے لئے وہ احکامات لے کر آیا جو آج بھی تمام قوموں اور اس زمانے کے لئے تازہ ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ یہ چیزیں ہم سے کیا تقاضا کرتے ہیں یہ احکامات جو اُترے اور اللہ تعالیٰ نے ہم پر انعام اور احسان کیا، یہ ہم سے کیا تقاضا کرتے ہیں؟ یہ تقاضا کرتے ہیں کہ اس آخری شرعی کتاب میں اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کے کمال کا ذکر فرمایا ہے ان کے حصول کی کوشش کریں۔یہ تقاضا کرتی ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کارلائیں۔وہ مجاہدہ کریں جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں راستہ دکھایا ہے، ہمیں حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا العنکبوت : (70) اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔پس اللہ سے ملنے کے لئے مجاہدہ کرنا اور کوشش کرنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں ہی اپنے راستوں کی طرف آنے کی رہنمائی فرماتا ہے جو خالص ہو کر اس کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہی کو تقویٰ پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے جو خود بھی تقویٰ پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُنہی کی طرف دوڑ کر آتا ہے جو کم از کم خود چل کر اس کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں اور تقویٰ کے حصول کے لئے ان کوششوں میں، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوششوں میں ، ایک