خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 359 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 359

خطبات مسرور جلد پنجم 359 خطبہ جمعہ 31 راگست 2007 ء سے کوئی بدی دُور نہیں کر سکتے اس لئے دعائیں مانگو اور جب تک انسان خدا سے قوت نہ پاوے کسی بدی کے دُور کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کہلا و، بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رُو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جا ئیں“۔( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 63 مطبوعہ لندن) یہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قائم کردہ معیار جس کی طرف آپ نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔نفسانی کینوں اور غصوں سے الگ ہو جاؤ۔یہ بڑا اچھا موقع اللہ تعالیٰ نے میسر فرمایا ہے اگر ان دنوں میں ہر ایک خود اپنا محاسبہ کرے تو اپنی تصویر خود سامنے آجائے گی۔اگر نیک نیتی سے اپنا محاسبہ کر رہے ہوں گے تو ان نفسانی کینوں اور غصوں کا حال خود معلوم ہو جائے گا۔تکبر سے بچو فرمایا یہ تکبر ہی ہے جو نا فرمان بنا تا ہے۔تکبر ہی ہے جس نے انبیاء کا انکار کر وایا اور یہ تکبر ہی ہے جو نظام جماعت یا عہدیداران کے خلاف دوسرے کو بھڑکا تا ہے اور یہ تکبر ہی ہے جو آپس میں بھی ایک دوسرے سے لڑاتا ہے۔پھر حقیقی ہمدردی اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے پیدا کر و تبھی تمہاری باتوں کا اثر ہوگا تبھی تمہاری تبلیغ مؤثر ہوگی۔کئی لوگ ہمارے جلسوں میں شامل ہوتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی آتے تھے ، قادیان کا ماحول دیکھتے تھے اور اس ماحول کا ہی اثر ان پر ہوتا تھا۔ان لوگوں کے اخلاق کا اثر بھی ان لوگوں پر ہوتا تھا جو احمدی ہو جاتے تھے۔اب بھی دنیا کے مختلف ممالک میں جب جماعت کے جلسے ہوتے ہیں اور لوگ آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیک اثر لے کر جاتے ہیں اور بعض ان میں سے پھر بیعت کر کے جماعت میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔تو ہر ایک کو یہ یاد رکھنا چاہئے اور ہر ایک کو یہ بات اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے کہ ہر احمدی کے چہرہ کے پیچھے آج احمدیت کا چہرہ ہے۔پس ہمیشہ یا درکھو تمہارے قول اور عمل میں تضاد نہ ہو بھی تمہاری دعوت الی اللہ میں برکت پڑے گی۔جماعت کی نیک نامی کا باعث بھی تم تبھی بنو گے جب ہمیشہ سچائی پر قائم ہو گے۔کسی کی بُرائی نہ چاہو۔ذاتی منفعت اور فائدہ تمہیں کسی سے بُرائی پر مجبور نہ کرے۔ہمیشہ یادرکھو کہ تمہارے ہر عمل کو خدا دیکھ رہا ہے۔ہر وقت دل میں خدا کا خوف ہو اور اس کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس کے آگے جھکو اور اپنی عبادتوں کے معیار قائم کرو اور ہمیشہ یادرکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت تمہیں تبھی فائدہ دے گی جب ہر حالت میں تم دین کو دنیا پر مقدم رکھو گے۔صرف دعوے اور نعرے کبھی کام نہیں آئیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی جماعت کے اعلیٰ معیار دیکھنے کی کس قدر تڑپ تھی اور کس درد سے