خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 358
خطبات مسرور جلد پنجم 358 خطبہ جمعہ 31 راگست 2007 ء ان میں عفو اور درگذر کا پہلو بھی زیادہ ہونا چاہئے اور انہیں دوسروں کے لئے نمونہ بننے کے لئے اپنی عبادتوں اور دوسرے اخلاق کے معیار اونچا کرنے کی بھی دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔پس اگر عہدیدار اپنے آپ کو عہدیدار کی بجائے خادم سمجھیں اور افراد جماعت اپنے عہد یداران کو نظام جماعت چلانے کے لئے خلیفہ وقت کے مقرر کردہ کا رکن سمجھیں تو یہ تعلقات ہمیشہ محبت اور پیار کے تعلق کی صورت میں رہیں گے جو پھر خلیفہ وقت کے تابع ہو کر دنیا کو امن اور سلامتی کا حقیقی پیغام دینے والے ہوں گے، دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کو پورا کرنے والے ہوں گے۔ان راہوں پر چلنے والے ہوں گے جن راہوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں چلانا چاہتے ہیں۔ان معیاروں کو حاصل کرنے والے ہوں گے جن معیاروں کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں: "اے سعادت مند لوگو ! آپ میں سعادت تھی تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو، زمانے کے امام کو قبول کیا۔اب سعادت کا پہلا قدم تو تم نے اٹھا لیا، آگے آپ فرماتے ہیں ”اے سعادت مند لوگو! تم زور کے ساتھ اس تعلیم میں داخل ہو جو تمہاری نجات کے لئے مجھے دی گئی ہے ایک قدم سعادت کا تو تم نے اٹھالیا، نیک فطرت تھی قبول کر لیا، اب اپنے آپ پر اس تعلیم کو بھی لاگو کر و جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئی ہے۔فرماتے ہیں ” تم خدا کو واحد لاشریک سمجھو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو نہ آسمان میں سے، نہ زمین میں سے۔خدا اسباب کے استعمال سے تمہیں منع نہیں کرتا“۔دنیاوی کام ہیں ان سے تمہیں منع نہیں کرتا۔ذریعے ہیں ان سے تمہیں منع نہیں کرتا، تو کل اگر اللہ تعالیٰ پر کرنا ہے تو اس کے لئے حکم ہے کہ اونٹ کا گھٹنا باندھو۔دو لیکن جو شخص خدا کو چھوڑ کر اسباب پر ہی بھروسہ کرتا ہے وہ مشرک ہے۔قدیم سے خدا کہتا چلا آیا ہے کہ پاک دل بننے کے سوانجات نہیں ، سو تم پاک دل بن جاؤ اور نفسانی کینوں اور غصوں سے الگ ہو جاؤ۔انسان کے نفس امارہ میں کئی قسم کی پلیدیاں ہوتی ہیں مگر سب سے زیادہ تکبر کی پلیدی ہے۔اگر تکبر نہ ہوتا تو کوئی شخص کافر نہ رہتا۔سو تم دل کے مسکین بن جاؤ۔عام طور پر بھی بنی نوع کی ہمدردی کرو جبکہ تم انہیں بہشت دلانے کے لئے وعظ کرتے ہو سو یہ وعظ تمہارا کب صحیح ہوسکتا ہے اگر تم اس چند روزہ دنیا میں ان کی بدخواہی کرو۔خدا تعالیٰ کے فرائض کو دلی خوف سے بجالاؤ کہ تم ان سے پوچھے جاؤ گے۔نمازوں میں بہت دعا کرو کہ تا خدا تمہیں اپنی طرف کھینچے اور تمہارے دلوں کو صاف کرے، کیونکہ انسان کمزور ہے۔ہر ایک بدی جو دُور ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت سے دُور ہوتی ہے۔اپنی طاقت