خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 357 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 357

خطبات مسرور جلد پنجم 357 خطبہ جمعہ 31 راگست 2007 ء معافیاں مانگ رہے ہوں گے۔ذاتی اناؤں کے جال سے نکل رہے ہوں گے۔کئی شکایات یہاں سے مجھے آتی ہیں، ذرا ذراسی بات پر ایک دوسرے سے دست وگریباں ہو جاتے ہیں، جماعت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور بعض کو پھر مجبوراً دکھی دل کے ساتھ سزا بھی دینی پڑتی ہے کیونکہ نظام جماعت کا تقدس تمام رشتوں سے زیادہ ہے، ہر رشتے سے بالا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے حقیقی تعلق ہے تو اپنی حرکتوں پر پشیمان ہوتے ہوئے آپس میں پیدا ہوئی ہوئی دراڑوں کو نہ صرف اس محبت کی وجہ سے جوڑنے والے ہوں گے بلکہ محبت کے تعلقات پیدا کریں گے۔آنحضرت ﷺ کے حکم پر عمل کرنے والے بنیں گے کہ ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان کو اس کی زبان اور ہاتھ سے کبھی تکلیف نہیں پہنچتی ، نہ پہنچنی چاہئے۔پھر ان دنوں میں جبکہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جمع ہوتے ہیں ، اس کے آگے جھکتے ہوئے اس سے دعائیں مانگ رہے ہیں، کامل ایمان کے ساتھ ذکر الہی میں مشغول ہیں، کامل فرمانبرداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چل رہے ہیں تو پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی بھی موقع پر نظام جماعت کی فرمانبرداری سے باہر ہوں۔ایک طرف تو یہ کوشش ہو کہ ہم آسمان پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں لکھے جائیں اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کے قائم کردہ نظام جماعت کی اطاعت سے باہر جارہے ہوں۔پس یہ دو عملیاں نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے کبھی نہیں دکھا سکتے اور نہ کبھی دکھاتے ہیں۔ان دنوں میں دلوں کے اس میل کو بھی دعاؤں کے ذریعہ سے، اصلاح کے ذریعہ سے دھونے کا موقع ملتا ہے۔اگر اصلاح کی غرض سے اس جلسے میں شامل ہوئے ہیں اور کوئی میلہ سمجھ کر شامل نہیں ہوئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ جلسہ کوئی میلہ نہیں ہے، تو یقیناً پھر دلوں کے میل بھی دھوئیں گے۔بعض دفعہ روز مرہ کی زندگی میں بھی اور جلسہ کے دنوں میں بھی ایک عام احمدی کی رنجشیں اور جھگڑے عہدیداران سے بھی ہو جاتے ہیں۔تو ایسی صورت میں اگر یہ ذہن میں ہو کہ اس جلسے کا مقصد کیا ہے تو ہر ایک احمدی اپنے پرانے جھگڑے بھی ختم کرنے کی کوشش کرے گا اور اگر یہاں کوئی تلخی کی صورت پیدا ہوئی ہے تو اسے بھی دور کرنے کی کوشش کرے گا۔عہد یداران اور جلسے کے دنوں میں ڈیوٹی دینے والے بھی اس بات کا خیال رکھیں کل بھی میں نے یہی کہا تھا کہ اخلاق کے اعلیٰ معیار سب سے زیادہ ڈیوٹی دینے والوں سے ظاہر ہونے چاہئیں کہ بحیثیت کارکن اور عہدیداران کی زیادہ ذمہ داری ہے۔اس لئے ان میں برداشت کا پہلو بھی زیادہ ہونا چاہئے یا برداشت پیدا کرنے کی ان کو زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔