خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 352
خطبات مسرور جلد پنجم 352 خطبہ جمعہ 31 راگست 2007 ء ہوئے ہیں جو جلسہ میں شمولیت کی نیت سے آئے ہیں)۔ان سب شامل ہونے والوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جلسہ کے انعقاد کا جو مقصد تھا اسے پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر یہ مقصد پیش نظر نہیں ، اگر جلسہ کے پروگراموں نے ایک احمدی کی روحانی اور اخلاقی حالت میں کوئی بہتری پیدا نہیں کی تو ایسے شامل ہونے والوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کراہت کا اظہار فرمایا ہے۔اگر تقویٰ میں ترقی نہیں تو 20 ہزار یا 25 ہزار یا 30 ہزار کی حاضری بے مقصد ہے۔تعداد بڑھنے سے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔آپ کی بعثت کا مقصد تو تب پورا ہو گا جب ہم تقویٰ میں ترقی کریں گے۔آپ فرماتے ہیں: ” تمام مخلصین ، داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولا کریم اور رسول مقبول ﷺ کی محبت دل پر غالب آجائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مگر وہ معلوم نہ ہو۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 248 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم پر ڈالی ہے اور یہ کتنی بڑی توقع ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے کی ہے۔آپ تمام محبتوں پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ہم پر غالب دیکھنا چاہتے ہیں۔کوئی ایسی محبت نہ ہو جو اس محبت کا مقابلہ کر سکے۔اللہ اور رسول کی محبت تمہارے دل میں قائم ہونی چاہئے۔دنیا کی محبت آپ ہمارے دلوں سے مٹا دینا چاہتے ہیں لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ دنیا سے لاتعلق ہو جاؤ اور بالکل ہی جنگلوں میں جا کے بیٹھ جاؤ۔آپ نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے تو یہ بھی کفران نعمت ہے۔اگر کوئی زمیندار ہے اور اپنے کھیت کا حق ادا نہیں کرتا ، اپنی زمینداری کا حق ادا نہیں کرتا تو یہ بھی کفران نعمت ہے۔اگر کوئی تاجر ہے یا کسی کا روبار میں ہے یا ملازم ہے اور ان کاموں کی طرف توجہ نہیں دیتا جو اس کے سپرد ہیں، جن کی اس پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے تو یہ بھی غلط ہے۔لیکن اس کے باوجود ایک احمدی کے دل میں سب سے زیادہ محبت خدا کی ہو، اس کے رسول کی ہو۔دنیا کی یہ قیمتیں ایک احمدی کو دنیا دار بنانے والی نہ ہوں ، اس کو اللہ تعالیٰ کے احکامات سے دور لے جانی والی نہ ہوں۔یہ کاروبار، یہ دنیاوی نعمتیں ایک احمدی کو تقویٰ سے دور ہٹانے والی نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت سے دور لے جانے والی نہ ہوں، عبادتوں کو بھلانے والی نہ ہوں ، اعلیٰ اخلاقی قدروں کو ہم سے چھینے والی نہ ہوں۔یہ کاروبار اور یہ دنیاوی نعمتیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں یہ ہمیں اللہ کی مخلوق کے حقوق غصب کرنے والی نہ بنائیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا غلبہ اور رسول ﷺ کی محبت کا غلبہ ہمیں اس تعلیم پر چلانے والا ہو جو تعلیم ہمیں قرآن کریم نے دی ہے۔اس محبت کی وجہ سے ہم اس اُسوہ پر چلنے والے ہوں جو آنحضرت ﷺ نے قائم فرمایا ہے۔تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرتے ہوئے ہم ان راہوں پر چلنے والے ہوں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے