خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 25

25 خطبہ جمعہ 19 جنوری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم تو رحم کیا ہے؟ رحم ہے رحمی رشتے۔پس آج ہم آپس کے رشتے نہیں نبھاتے تعلق نہیں نبھاتے تو ان کو نہ نبھا کر رحمن خدا کی نافرمانی کر رہے ہوتے ہیں۔اور رحمن خدا نے فرمایا کہ جوان رحمی رشتوں کو توڑے گا اس سے میں بھی تعلق توڑوں گا۔خدا تعالیٰ کی نافرمانی پھر یقین شیطان کی طرف لے جانے والی ہے۔اگر انسان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی غور کرے اور پھر ان برائیوں پر غور کرے اور ان کو نکالنے کی کوشش کرے تو تبھی وہ رحمن خدا کا قرب پانے والا بن سکتا ہے ورنہ یہی چیزیں بڑھتے بڑھتے پھر دل کو سیاہ کر دیتی ہیں۔اور رحمن کی روشنی سے خالی کر کے پھر شیطان کے اندھیروں کو دل میں بسا لیتی ہیں۔اور پھر ایک شخص جو بظاہر خدا کی عبادت کر رہا ہوتا ہے رحمن کی عبادت کرنے والا نہیں رہتا بلکہ شیطان کی جھولی میں گر جاتا ہے۔اور پھر شیطان کی جھولی میں گرنے والے کو وارننگ ہے جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کو وارنگ دی تھی۔اس کے الفاظ یہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں محفوظ کر لئے جو میں نے بتائے ہیں اور رہتی دنیا تک یہ رحمن خدا سے پرے ہٹے ہوئے لوگوں کے لئے وارننگ ہے کہ باوجود اس کے کہ خدارحمن ہے اور رحمن کی تعریف ہم دیکھ آئے ہیں بندوں پر احسان کرنے والا اور بغیر کسی وجہ کے احسان کرنے والا کوئی اجر نہیں لے رہا بلکہ احسان ہے اس نے اپنے بندوں کے لئے انعامات اور احسانات کی بارش برسائی ہوئی ہے لیکن اس کے حکموں پر نہ چل کر تم اس کی نافرمانی کے مرتکب ہو رہے ہو۔اور اس کا نتیجہ عذاب کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو وارننگ دی۔اگر ایک ذی شعور عقلمند انسان غور کرے تو دیکھے گا کہ آجکل مختلف صورتوں میں انسانیت پر جو عذاب آ رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ ہمیشہ یہ یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن ہے تو اس کے ساتھ دوسری صفات بھی ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں شرک معاف نہیں کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ اس کی اس طرح وضاحت فرمائی ہے کہ ظاہری بتوں کا شرک نہیں ہے۔بلکہ قسم ہا قسم کے مخفی شرک بھی ہیں جو انسان نے اپنے دل میں بٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔پس اس لحاظ سے بھی جب ہم غور کریں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ پتہ نہیں کون سی بات ہے جو خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والی بن جائے۔یہاں بظاہر حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کو رحمن خدا کے حوالے سے ڈرانا عجیب لگتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی اور صفات بھی ہیں۔تو جب ایک انسان اس کے باوجود کہ خدا تعالیٰ بے انتہا نواز نے والا ہے انعامات دینے والا ہے اور بغیر مانگے دینے والا ہے جب اس سے تعلق توڑتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ پھر وہ اللہ تعالی کی جو دوسری صفات ہیں جن میں سزا دینا بھی ہے ان کے نیچے آ جاتا ہے۔تو یہ انسان کی انتہائی بدبختی ہے کہ جو ایسے رحمان خدا کے عذاب کا مورد بنے جس نے دنیاوی سامان بھی ہمیں اپنی زندگی گزارنے کے لئے مہیا فرمائے اور روحانی بہتری کے لئے بھی اپنے مقرب بندے دنیا میں بھیجتارہتا ہے۔اور اس زمانے میں ہم گواہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام