خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 346
خطبات مسرور جلد پنجم 346 خطبہ جمعہ 24 اگست 2007 ء رہے ہیں تم بھی جنگ کرو کیونکہ وہ تمہارے خلاف فتنہ فساد اور جنگ کی آگ بھڑکا رہے ہیں مختلف قبائل کو بھی بھڑ کا رہے ہیں اور صرف یہی نہیں جس طرح یہ فرماتے ہیں کہ سب کو قتل کر دینا ہے بلکہ اس میں قید کا بھی حکم ہے کہ قید کرو، ان کو محصور کرو، ان پر نظر رکھو، تا کہ وہ ملک میں فتنہ وفساد کی آگ نہ بھڑ کا ئیں۔اگر خیرت ولڈرز (Geert Wilders) صاحب کے نزدیک ایسی صورت میں بھی کھلی چھٹی ہونی چاہئے ، اگر ہر ایک کو اجازت ہے تو پھر یہ اپنے ملک میں پہلے سیاسی لیڈر ہیں جو تمام مجرموں کو کھلی چھٹی دلوانے کے لئے قانون پاس کروائیں گے کہ ہر کوئی جو چاہے کرتا پھرے۔یہ مجرم کسی خاص مذہب کے نہیں ہوں گے۔مجرم تو ہر قوم اور ہر مذہب میں ہیں پھر صرف مسلمانوں کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں جو امن سے ملک میں رہ رہے ہیں، جو ملک کے قانون کی پابندی کر رہے ہیں۔اور آخر پر اپنے کینے کا اظہار اس طرح کر دیا کہ جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اصل میں تو یہ صاحب خدا تعالیٰ کے خلاف ہیں ، اسلام کے زندہ اور واحد خدا کے خلاف ہیں۔کیونکہ ان کو یہ نظر آ رہا ہے کہ یہی ایک ایسا دین ہے جو دلیل سے ہر ایک کا منہ بند کرنے والا ہے اس لئے دلیل سے کام نہیں بنے گا، وہ تو ان کے پاس ہے نہیں ، ملک کے قانون پاس کر کے سختی سے کام کرو تو پھر ہی بات بنے گی۔تو یہی ہارے ہوؤں کی نشانی ہوتی ہے۔خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ہم ہار گئے۔ہالینڈ میں وقتا فوقتا اسلام کے خلاف باتیں اٹھتی رہتی ہیں، ابال اٹھتارہتا ہے۔عورتوں کے پردے کے بارے میں اٹھا اور کبھی کسی معاملے میں اٹھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام ڈچ قوم ایسی ہے، شرفاء بھی ان میں ہیں، لیڈرز میں بھی اچھے لوگ ہیں، مختلف قسم کے لوگوں میں اچھے لوگ ہیں اور انہوں نے اس بات پر جو قرآن کریم کے بارے میں انہوں نے کی اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں کی ، رد عمل کا اظہار بھی کیا ہے، ان کے ایک ممبر پارلیمنٹ ہیں ہالبے زائل سترا (Helbe Zelstra) یا جو بھی نام ہے یہ اس کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ آپ کو مذہبی آزادی سلب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔پھر براؤن داکسل بلوم (Jeroen Dijselbloem) لکھتے ہیں کہ ولڈرز (Wilders) اپنے راستہ سے بھٹک گیا ہے۔ہالینڈ میں آپ جس طرح کے عقیدے پر ایمان رکھنا چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ایک اور پارٹی کے لیڈر نے لکھا (یہ ممبر پارلیمنٹ ہیں ) کہ تمام حدود کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے، ولڈرز (Wilders) کو ایک ریشسٹ (Raciest) کا نام دینا چاہئے۔پھر ایک وکیل جو کو نسلر رہے ہیں ، انہوں نے اپنی ذاتی حیثیت میں اس کی اس حرکت پر پولیس میں کیس درج کروایا ہے۔ایک خاتون نے بھی اس کی بات کو ر ڈ کیا ہے۔اسی طرح ایک نے لکھا کہ کتابوں پر پابندی لگانا دراصل ڈکٹیٹر شپ کا آغاز ہے۔یہاں کی کابینہ نے بھی ولدرز (Wilders) کے بیان پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے اور کہتے ہیں کہ اس قسم کے بیانات دے کر ہالینڈ میں بسنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کی بے عزتی کی گئی ہے۔وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ ہالینڈ میں قرآن پر پابندی کا کوئی خیال نہیں۔بہر حال یہاں شرفاء بھی ہیں اور اس قسم کے لوگ بھی ہیں۔