خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد پنجم 24 خطبہ جمعہ 19 جنوری 2007 ء خدا کو سب بھول چکے ہیں یا کہنا چاہئے اکثریت بھول چکی ہے۔اس طرف کسی کی نظر جانے کو تیار نہیں کہ رحمن خدا کا شکر گزار بنے ،مغرب اور یورپ کی دیکھا دیکھی مسلمان کہلانے والے بھی رچمن سے عملاً تعلق توڑ چکے ہیں۔آج اس کے نتیجے بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔دنیا اور دنیا کی ہوا و ہوس سب سے پہلے ان کا سمح نظر بن چکی ہے۔آخرین کے زمانے کی اس نشانی کا اللہ تعالیٰ نے نقشہ کھینچا ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَإِذَا رَأَوُا تِجَارَةً اَوْ لَهُوَا نِ انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَآئِمًا (الجمعة: (12) یعنی جب وہ کوئی تجارت یا دل بہلا وا دیکھیں گے تو اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور تجھے اکیلا کھڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔یہ نقشہ اس زمانے کے لوگوں کا ہے جو آج کا موجودہ زمانہ ہے، مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے۔جب خدا کا مسیح پکار پکار کر کہ رہا ہے ، خدائے رحمن کا واسطہ دے کر کہہ رہا ہے کہ خدائے رحمن کی طرف آؤ۔جس چیز کو تم بہترین سمجھ رہے ہو۔وہ بہترین نہیں ہے بلکہ تمہیں تباہی کی طرف لے جانے والی ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر نظر رکھو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علی اللہ کے ذریعہ سے اور پھر آپ کی غلامی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے مسیح محمدی کے ذریعہ سے پہنچایا ہے کہ قُلْ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ (الجمعة: 12) تو کہہ دے جو اللہ کے پاس ہے وہ دل بہلاوے اور تجارت سے بہتر ہے۔پس آج بھی دنیا اپنی جھوٹی روایات، اناؤں اور مفادات کی وجہ سے رحمن خدا کو بھول کر ان معبودوں کی عبادت کر رہی ہے جو شیطان نے ان کے دلوں میں معبود بنا کر پیش کئے ہوتے ہیں۔زمانے کے امام کا انکار بذات خود شیطان کی گود میں گرانے والا ہے اور شیطان کے ورغلانے میں آنے والا ہر انسان پھر اسی صفت سے متصف ہو جاتا ہے جو شیطان کی ہے۔اور شیطان کے ورغلانے میں آنے والا پھر اللہ تعالیٰ سے تعلق توڑ دیتا ہے، پھر اس کا رحمن خدا سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ رحمن سے تعلق تو ڑو گے تو لازماً اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ شیطان سے تعلق جڑے گا اور شیطان سے تعلق جوڑنا یہی شیطان کی عبادت ہے۔یہی دلوں کے بت ہیں جو رحمن خدا سے دور کرتے ہیں، جن میں دُنیا کا خوف زیادہ ہے اور رحمن کا خوف کم ہے یا بالکل ہی نہیں ہے۔پس اس لحاظ سے بھی بڑی باریکی سے ہمیں بھی اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔جہاں ہم دوسروں کو بتاتے ہیں وہاں ہمیں بھی اپنے آپ کو دیکھنا پڑے گا۔بڑے خوف کا مقام ہے کہ کون سی ایسی بات کہیں ہو جائے ، ہمارے منہ سے نکل جائے یا ہمارے عمل سے ظاہر ہو جائے جو رحمن خدا کو ناراض کرنے والی ہو۔بڑی بڑی باتیں نہیں ہیں بعض بہت چھوٹی چھوٹی باتیں بھی ہیں جو ناراض کرتی ہیں۔ہم جب اپنے آپ کو دیکھیں گے اپنے عمل صحیح کریں گے تبھی ہم صحیح طور پر پیغام پہنچا سکیں گے۔مثلاً بظاہر چھوٹی بات ہے۔اس کا ایک حدیث قدسی میں ذکر ملتا ہے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے رحم ک فر مایا کہ کیا تو یہ پسند نہیں کرتا ہے کہ میں اس سے تعلق جوڑوں جو تجھ سے تعلق جوڑے اور اس سے تعلق کاٹ دوں جو تجھ سے تعلق کائے۔اس نے کہا کیوں نہیں، اے میرے رب ! تو اللہ تعالی نے کہا کہ پس اسی طرح ہو گا۔“ (صحیح بخارى كتاب التفسير سورة محمد باب و تقطعوا ارحامکم حدیث نمبر (4830 ر