خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 317
خطبات مسرور جلد پنجم 317 31 خطبه جمعه 03 اگست 2007 ء فرموده مورخه 03 اگست 2007 (03) ظہور 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت المهدی ، لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر اور احسان ہے کہ گزشتہ اتوار UK کا اکتالیسواں جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اختتام کو پہنچا تھا۔یہ جلسہ سالانہ نمائندگی کے لحاظ سے اب عالمگیر جلسہ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں کہا تھا کہ جب تک خلیفہ وقت کی یہاں موجودگی رہے گی اس کی بین الاقوامی حیثیت رہے گی اور اس لحاظ سے جماعت UK کی ذمہ داریاں بھی جلسہ پر زیادہ بڑھ گئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا ہر فرد مرد، عورت، بچہ جوان اس ذمہ داری کو خوب سمجھتا اور نبھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کارکنان کو جزا دے جو کسی بھی طرح ان مہمانوں کی خدمت بجالا رہے تھے اور اب تک یہ خدمت بجالا رہے ہیں۔اس دفعہ جیسا کہ تمام شاملین جلسہ نے دیکھا کہ جلسہ سے کئی ہفتے پہلے بھی اور جلسہ کے دوران بھی غیر معمولی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔بلکہ اس موسم کے ناموافق حالات کو دنیا میں ہر احمدی نے جو بھی اس جلسہ کے پروگرام کو سن رہا تھا ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دیکھا۔جہاں اس جلسے میں موسم کی وجہ سے جلسے کے انتظامات کو چلانے میں بعض دقتیں پیش آئیں وہاں وہ لوگ جو جلسہ میں شامل ہوئے انہیں بعض مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا خاص طور پر کاروں کی پارکنگ کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے بہت دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اس کے باوجود اکثریت نے بلکہ چند ایک کے سوا تمام شاملین نے انتظامیہ سے کوئی شکوہ یا شکایت نہیں کی اور تمام مہمانوں نے عموماً حوصلہ ہی دکھا یا ، تاہم بعض شامل ہونے والوں کی طرف سے بے صبری کے مظاہرے میرے علم میں آئے ہیں جن سے انہوں نے بعض نو مبائعین اور غیروں پر اچھا اثر نہیں چھوڑا۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کی مثال ایک سفید چادر سے دی جاسکتی ہے اور اس سفید چادر پر ایک ہلکا سا نشان یا قطرہ بھی اگر کسی دوسرے رنگ کا ہو گا تو وہ بہت نمایاں ہو کر سامنے آئے گا اور آتا ہے۔اس لئے اپنے اعلیٰ نمونے دکھانے کی طرف ایک احمدی کو بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ایک احمدی کا صبر اور وسعت حوصلہ ایک خصوصی امتیاز ہے اور ہونا چاہئے اس کو ہمیشہ یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ میری حیثیت ایک احمدی کی حیثیت ہے۔اگر کوئی کہیں چند بے صبرے مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ڈیوٹی والا کوئی وہاں موجود نہ ہو تو اس موقع پر باقی احمدیوں کو ایسے