خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 302
خطبات مسرور جلد پنجم 302 خطبہ جمعہ 20 جولائی 2007ء عرش پر خوش ہور ہا تھا اور اس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھی دی کہ اے محمد دیکھ تجھے کس قسم کے ایثار اور قربانی کرنے والے لوگ میں نے دیئے ہیں جو دوسروں کی خاطر کس طرح قربانی کرتے ہیں۔آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے۔(سنن الترمذى كتاب الزهد باب ماجاء في حفظ اللسان حدیث نمبر (2413 | پس مہمانوں کے حق کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور جو مہمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بلانے پر روحانی مائدہ حاصل کرنے کے لئے آ رہے ہوں جو اس لئے دور دراز سے خرچ کر کے آ رہے ہوں کہ پاکستان میں جلسوں پر پابندی ہے۔ہمیں جس فیض سے محروم کر کے دنیاوی حکومتوں نے روکیں کھڑی کر رکھی ہیں اس سے فیضیاب ہونے کے لئے ہم سے جو بھی بن پڑتا ہے کرتا ہے اور کرنا چاہئے۔اگر اپنے اوپر بوجھ ڈال کر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں سے فیضیاب ہوا جا سکتا ہے جو آپ نے جلسے والوں کے لئے کیں تو ہونا چاہئے۔کئی مخلصین یہاں آتے ہیں، میں نے پہلے بھی کہا کہ نہ انہوں نے یہاں سے کوئی دنیوی مفاد حاصل کرنا ہے، نہ ان کا کوئی عزیز یہاں ہے جس سے ملنا ہے۔کوئی ذاتی مفاد نہیں، خالصتاً صرف جلسے کے لئے چند دن کے لئے آئے ہیں اور جلسے کے بعد چلے جائیں گے۔بعض بڑی عمر کے عورتیں بھی اور مرد بھی مجھے ملے ہیں کہ گزشتہ کئی سال سے ہم ویزے کے حصول کی کوشش کر رہے تھے لیکن ویز انہیں ملتا تھا۔تو اس دفعہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرما دیا اور ویزامل گیا۔جب یہ لوگ ملتے ہیں تو انتہائی جذباتی کیفیت ہوتی ہے۔بعضوں کی تو روتے ہوئے ہچکی بندھ جاتی ہے۔انتہائی اخلاص اور وفا کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے۔تو یہ مہمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کی خاطر آنے والے مہمان ہیں۔ان کی مہمان نوازی پر یقینا اللہ تعالیٰ بھی خوش ہو گا۔پس کارکنان جلسہ کو خوش ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ثواب کا موقع عطا فر مایا اور یہ ان کے لئے بہترین موقع ہے جس سے ان کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔کسی مہمان کی عزت اس کے ظاہری رکھ رکھاؤ کی وجہ سے نہیں کرنی کسی کی سادگی کو نہ دیکھیں بلکہ اس اخلاص کو دیکھیں جس کے ساتھ وہ یہاں جلسہ سننے کے لئے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آقاﷺ کی اتباع میں کیا نمونے قائم فرمائے۔ایک دفعہ سید حبیب اللہ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا ( آپ ملنے آئے تھے ) کہ آج میری طبیعت علیل تھی اور میں باہر آنے کے قابل نہ تھا مگر آپ کی اطلاع ہونے پر میں نے سوچا کہ مہمان کا حق ہوتا ہے جو تکلیف اٹھا کر آیا ہے اس واسطے میں اس حق کو ادا کرنے کے لئے باہر آ گیا ہوں۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 163 جدید ایڈیشن) تو اپنی صحت کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی ، آنحضرت ﷺ کی اس بات کو یا د رکھا کہ مہمان کا بھی تم پر حق ہے اور اس حق کی ادائیگی کے لئے آپ باہر تشریف لائے۔