خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 301
خطبات مسرور جلد پنجم 301 خطبہ جمعہ 20 جولائی 2007ء ران بھنوائی پھر مجھے اس میں سے کاٹ کاٹ کر آپ عنایت فرماتے تھے۔حضور ﷺ بھی کھانا تناول فرما رہے ہوتے تھے۔اگر کوئی ملاقاتی آجاتا تو اسے بھی کھانے میں بغیر تکلف کے ساتھ شامل کر لیتے تھے۔پھر جب فتح مکہ ہوئی اور بڑے بڑے وفود آپ کے پاس آنے لگے تو خود ان کا استقبال بھی فرماتے تھے، انہیں عزت و احترام دیتے تھے ، ان کے لئے رہائش اور کھانے وغیرہ کا بندوبست فرماتے تھے، مختلف صحابہ میں مہمان نوازی کے لئے ان کو بانٹ دیتے تھے اور پھر مہمانوں سے دریافت فرماتے کہ تمہارے بھائیوں نے تمہاری مہمان نوازی کا حق ادا کیا کہ نہیں ؟ تو یہ تھے آپ ﷺ کے مہمانوں سے حسن سلوک کے طریقے۔پھر یہ ہے کہ اگر کوئی مہمان آتا تو پہلے آپ اپنے گھر سے جائزہ لیتے تھے کہ کوئی کھانے کی چیز میسر ہے کہ نہیں، اس مہمان کی اچھی طرح مہمان نوازی ہوسکتی ہے یا نہیں۔اگر کچھ میسر نہ ہوتا تو پھر دوسرے صحابہ سے پوچھتے کہ اس مہمان کو کون اپنے ساتھ لے جائے گا۔اس طرح کا ایک واقعہ ہے کہ ایک مہمان آیا ، آپ نے اپنے گھر سے پتہ کروایا ، کھانے کو کچھ نہیں تھا۔تو ایک انصاری صحابی نے کہا کہ میں اس کو اپنے گھر لے جاتا ہوں اور اس واقعہ میں مہمان کے لئے احترام اور قربانی کی ایک عجیب جھلک نظر آتی ہے۔روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا۔آپ نے اپنی ازواج کی طرف پیغام بھجوایا۔انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں۔اس پر حضور ﷺ نے صحابہ سے فرما یا اس مہمان کے کھانے کا بندو بست کون کرے گا۔ایک انصاری نے عرض کی کہ حضور میں انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ وہ اس کے ساتھ گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ آنحضرت ﷺ کے مہمان کی خاطر مدارات کا انتظام کرو۔بیوی نے جوابا کہا کہ گھر میں تو صرف بچوں کے کھانے کے لئے ہے۔انصاری نے کہا کہ کھانا تیار کرو پھر چراغ جلاؤ اور جب بچوں کے کھانے کا وقت آئے تو ان کو بہلا کر سلا دو۔چنانچہ عورت نے کھانا تیار کیا اور چراغ جلایا۔بچوں کو بھوکا ہی سلا دیا۔پھر چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھی اور چراغ بجھا دیا۔پھر دونوں مہمان کے ساتھ بیٹھے بظاہر کھانا کھانے کی آوازیں نکالتے رہے اور چٹخارے لیتے رہے تا کہ مہمان سمجھے کہ میزبان بھی میرے ساتھ کھا رہے ہیں۔اس طرح مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا اور وہ خود بھو کے سور ہے۔صبح جب یہ انصاری حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے رات والے عمل سے تو اللہ تعالیٰ بھی ہنس دیا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ وہ خود ضرورت مند ہوتے ہیں اور جو نفس کے بخل سے بچائے گئے وہی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔(بخاری کتاب المناقب باب ويؤثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة حديث نمبر (3798 دیکھیں اللہ تعالیٰ کی نظر میں مہمان نوازی کی کتنی اہمیت ہے کہ اس انصاری کی منفر د قسم کی مہمان نوازی سے خدا