خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 300
خطبات مسرور جلد پنجم 300 خطبہ جمعہ 20 جولائی 2007ء لایا گیا اس نے پی لیا۔پھر آپ نے دوسری بکری کا دودھ لانے کے لئے فرمایا تو وہ دوسرے دن پورا دودھ ختم نہ کر سکا۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا مومن ایک آنت سے کھاتا ہے جبکہ کا فرسات آنتوں سے۔(صحیح بخارى كتاب الاطعمة باب المؤمن يأكل فى معى واحد )۔کھانے کے طور پر تو ہم یہ مثال دیتے ہیں لیکن یہی مہمان نوازی ہے، اس میں مہمان نوازی کا جو خلق نظر آتا ہے یہ ہے کہ جتنا بھی مہمان کھائے خوشی سے اس کو مہیا کیا جائے۔بغیر کسی قسم کا اظہار کئے کہ کیا مشکل ڈال دی کہ ایک بکری سے پیٹ نہیں بھرا ، دو سے نہیں بھرا، تین سے نہیں بھرا۔تو جب تک اس کا پیٹ نہیں بھر گیا، اس کی تسلی نہیں ہو گئی ، آپ اس کی مہمان نوازی کا حق ادا فرماتے رہے اور کسی بھی قسم کا ایسا اظہار نہیں ہونے دیا جس سے مہمان شرمندہ ہو یا کسی اظہار سے اس کی ناراضگی ہو۔پھر عارضی مہمان نوازی نہیں مستقل مہمان نوازی بھی آپ فرما یا کرتے تھے۔آپ کی اس مہمان نوازی کی شفقت سے فیض اٹھانے والے کئی کئی دن بلکہ مہینوں آپ کی مہمان نوازی سے فیض اٹھاتے تھے لیکن کوئی تکلف نہیں ہوتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ اعلان کروا دیا کہ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (ص: 87) اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔جو کچھ بے تکلفی سے میسر ہوتا تھا آپ مہمانوں کو پیش فرما دیتے تھے۔جو بہتر طور پر کر سکتے تھے ان کی ضروریات پوری فرما یا کرتے تھے۔حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے دو ساتھی جن کی محنت اور مشقت کی وجہ سے قوت سماعت اور بصارت متاثر ہوئی تھی۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے پاس آئے مگر ان میں سے کسی نے ہماری طرف توجہ نہیں دی۔پھر ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ہمیں اپنے گھر والوں کے پاس لے گئے۔وہاں پر تین بکریاں تھیں۔آپ نے فرمایا ان کا دودھ دوہا کرو۔ہم میں سے ہر ایک اپنا اپنا حصہ پی لیتا اور رسول کریم ﷺ کی طرف آپ کا حصہ لے جاتے۔آنحضرت ﷺ رات کے وقت تشریف لاتے اور سلام کرتے۔آواز اتنی اونچی نہ ہوتی کہ سویا ہوا بیدار ہو جائے۔جو جاگ رہا ہوتا وہ سن لیتا۔پھر آپ نوافل کے لئے مسجد میں تشریف لے جاتے ، نوافل ادا کرتے۔اور پھر نماز فجر ادا کرتے۔پھر اس کے بعد، وہیں آپ کے پاس پینے کے لئے دودھ لایا جاتا جو آپ پی لیتے۔(ترمذی کتاب الاستيذان والادب باب كيف السلام حدیث نمبر ( 2719) تو بے تکلف مہمان نوازی یہی ہے کہ ان ضرورتمندوں کو کہہ دیا کہ ٹھیک ہے تم اب لمبا عرصہ میرے مہمان ہو یہ بکریاں ہیں ان کا دودھ دو ہو، خود بھی پیدا اور میرے لئے بھی رکھو۔پھر جیسا کہ میں نے کہا آپ کی مہمان نوازی میں تکلف کوئی نہیں ہوتا تھا جو میسر ہوتا تھا مہمان کے سامنے پیش فرما دیتے تھے۔حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور کی میز بانی سے میں نے اس طرح لطف اٹھایا کہ آپ نے بکرے کی