خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 298
298 خطبہ جمعہ 20 جولائی 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم آج کا یہ خطبہ یعنی جلسہ سالانہ سے ایک ہفتہ پہلے کا جو خطبہ ہوتا ہے۔یہ عموماً میں کارکنان کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے دیتا ہوں ، جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب یو کے جماعت کے کارکنان جلسہ سالانہ جن میں بچے بھی ہیں عورتیں بھی ہیں ، بوڑھے مرد بھی ہیں اور جوان مرد بھی ہیں، یہ سب اپنے کام کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں اور بڑی عمدگی سے ڈیوٹیاں دیتے ہیں۔لیکن کیونکہ یاددہانی کا بھی حکم ہے تا کہ پرانے کارکن بھی اور نئے شامل ہونے والے کارکنان بھی اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر لیں اور اپنے سے ہر قسم کی کمزوریوں کو دُور کرنے کی کوشش کریں اور پھر میزبانی سے متعلق آنحضرت ﷺ کے اسوہ کی یاد بھی تازہ ہو جاتی ہے اور آپ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے آقا کی اتباع میں جو نمونے ہیں وہ بھی ہمارے سامنے آ جاتے ہیں اور ان سے بھی ہماری رہنمائی ہوتی رہتی ہے اس لئے یہ یاد دہانی کرواتا ہوں۔مہمان نوازی ایک ایسا وصف ہے جس کا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی ذکر فرمایا ہے۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کے ذکر میں فرماتا ہے کہ وَلَقَدْ جَائَتْ رُسُلُنَا إِبْرَهِمَ بِالْبُشْرَى قَالُوا سَلْمًا قَالَ سَلْمَ فَمَا لَبِثَ أَنْ جَائَ بِعِجْلٍ حَنِيْذ (هود: (70) اور یقینا ابراہیم کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے خوشخبری لے کر آئے۔انہوں نے سلام کہا، اس نے بھی سلام کہا اور ذرا دیر نہ کی کہ ان کے پاس ایک بُھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔پس مہمان نوازی یہی ہے کہ اپنے عمل سے کسی قسم کا ایسا اظہار نہ ہو کہ مہمان آ گیا تو مصیبت پڑ گئی۔بلکہ مہمان کو پتہ بھی نہ چلے اور اس کی خاطر مدارات کا سامان تیار ہو جائے۔جو بہترین کھانا میسر ہو، جو بہترین انتظام سامنے ہو وہ مہمان کو پیش کر دیا جائے۔رہائش کا جو بہترین انتظام مہیا ہو سکتا ہے، مہمان کے لئے مہیا کیا جائے۔اس آیت سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ضرور اتنی خاطر داری ہو کہ ایک دو مہمان آئے ہیں تو بے تحاشا کھانا تیار کیا جائے ، بچھڑے کی مہمان نوازی کے بغیر اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا یا زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا چاہئے۔اُس زمانے میں وہ لوگ بھیٹر بکریاں پالنے والے تھے ، بازار تو تھے نہیں کہ بازار گئے اور چیز لے آئے ، بھیٹر میں موجود تھیں اور وہی فوری طور پر میسر آ سکتی تھیں تو اصل چیز اس میں یہ ہے کہ مہمان سے بغیر پوچھے کہ کھانا کھاؤ گے یا نہیں اس کی مہمان نوازی کے سامان تیار کر لئے جائیں۔آنحضرت ﷺ نے مہمانوں کو دودھ بھی پیش کیا۔آپ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔کھجوریں میسر ہوئیں تو وہ بھی پیش کیں۔اگر گوشت یا کوئی اور اچھا کھانا ہے تو وہ مہمانوں کو کھلا دیا۔تو اصل اسلامی خلق جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے خوش دلی سے مہمان نوازی کرنا ہے۔مہمان کو یہ احساس نہ ہو کہ میرا آنا میز بان کے لئے بوجھ بن گیا ہے۔بلکہ حضرت ابراہیم کے مہمانوں نے تو یہ محسوس کیا کہ کھانے کی طرف ہمارا ہاتھ نہ بڑھنا حضرت ابراہیم کے دل میں تنگی پیدا کر رہا ہے۔جس کی پھر انہوں نے وضاحت بھی کی کہ ہم لوڈ کی طرف جا رہے ہیں۔تو یہ اسلامی خلق ایسا ہے کہ ہر مسلمان کو اس کو اپنا نا ضروری ہے۔مختلف رنگ میں دوسری جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے اس کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔پس یہ ایسی تعلیم ہے جس کا ایک احمدی کو خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے اور پھر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے مہمان بن کر آ رہے ہوں ان کا کس قدر خیال ہونا چاہئے۔ہر احمدی جو آپ کی بیعت میں شامل ہے وہ خود