خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 297
خطبات مسرور جلد پنجم 297 (29) خطبہ جمعہ 20 جولائی 2007ء فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2007ء (20 روفا1386 ہجری شمسی) بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگلے جمعہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت احمد یہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ قریباً 24 سال سے جب حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی یہاں ہجرت ہوئی، یہ جلسہ سالانہ ، یو کے کا جلسہ سالانہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی جلسہ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔اور جیسا کہ میں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ جب تک خلافت کا یہاں قیام ہے اس جلسے کی بین الاقوامی حیثیت رہے گی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے یہاں آنے کے بعد جو پہلا جلسہ ہوا تھا اس کی اہمیت کے پیش نظر بلکہ بعد کے کئی سال بھی مختلف اوقات میں آپ نے یہاں کے ملکی جماعتی نظام کی ٹریننگ کے لئے ، ان کو صحیح جماعتی روایات سے متعارف کرانے کے لئے، جلسے کے مختلف شعبہ جات اور مختلف امور کی باحسن سرانجام دہی کے لئے جہاں خود بڑی محنت سے ذاتی دلچسپی لے کر جلسے کے نظام کو اپنی رہنمائی سے نوازا، وہاں مرکز سے، ربوہ سے بھی تجربہ کار، پرانے کام کرنے والے افسران ، جن کا سالہا سال جلسہ کے انتظام چلانے کا تجربہ تھا اور جماعتی روایات سے بھی واقف تھے، کو بھی یہاں کے نظام کے ساتھ مشوروں میں شامل رکھا۔بہر حال چند سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یو کے کی جماعت اس معاملے میں اتنی تربیت یافتہ ہو گئی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر اب لاکھوں کی تعداد میں بھی مہمان آجائیں تو یہ بغیر کسی گھبراہٹ اور انتظامی نقص کے یا دقت کے جلسے کے انتظام کو اللہ کے فضل سے احسن طریق پر سر انجام دے سکتے ہیں۔بلکہ بعض دفعہ جب میں سوچتا ہوں تو یہ فکر ہوتی ہے کہ پاکستان میں بھی جب انشاء اللہ تعالی حالات بہتر ہوں گے ، جلسہ سالانہ ہو گا تو لمبے عرصے کے تعطل کی وجہ سے بہت سے کارکنان جو اس وقت جب آخری جلسہ 1983ء کا ہوا تو active تھے، اور اب بڑی عمر ہو جانے کی وجہ سے اتنے active نہیں رہے ہوں گے، بعض ان میں سے دنیا میں بھی نہیں رہے تو نئی نسل ڈیوٹیاں دینے کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے جلسے کے انتظام کو کس طرح سنبھالے گی؟ لیکن پھر اللہ تعالیٰ کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے سلوک ہے اسے دیکھ کر اور احمدیوں کی فدائیت اور ایمان کے جذبے کو دیکھ کر تسلی ہوتی ہے کہ انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ خود ہی ان فکروں کو دور کرنے کے سامان پیدا فرمائے گا۔بہر حال آپ سب سے اور خاص طور پر پاکستان کے رہنے والے احمدیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان میں بھی جلسے کے انعقاد کے سامان پیدا فرمائے اور ان کی یہ محرومیاں بھی دور ہوں اور ہماری فکریں جو بشری تقاضا ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ دور فرمائے۔بہر حال یہ تو ضمنا دعا کی تحریک کی طرف توجہ پیدا ہوئی تھی جو میں نے کی۔