خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 282

خطبات مسرور جلد پنجم 282 خطبہ جمعہ 06 جولائی 2007ء گواہی کی وجہ سے کیوں سزا ملے گی؟ اس لئے کہ ایمان لانے کا دعوی کرنے کے بعد بھی پھر جو مصدق اعظم ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کی تصدیق کا اختیار دیا ہے ان کے عاشق صادق کو نہیں مانا۔پس یہ آنحضرت ﷺ کی تصدیق پہلوں اور آخرین دونوں کے لئے ہے۔اور پھر جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفت مومن کے معنی ہیں کہ جو مومنوں سے اپنے کئے ہوئے وعدے سچ کر دکھائے تو یہ وعدے بھی آج اُس خلافت کی تصدیق کی وجہ سے ہیں جو جماعت احمدیہ سے ہی اللہ تعالیٰ پورے فرمارہا ہے۔کیا مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کو دین کی تمکنت حاصل ہے؟ منہ سے بے شک ڈھٹائی سے کہتے رہیں جو چاہے کہیں لیکن صورتحال ہر ایک کے سامنے ہے۔پھر امام راغب اپنی لغت مفردات امام راغب میں لکھتے ہیں کہ الْمُؤْمِن کے اصل معنی ہیں طمانیت نفس حاصل ہونا اور خوف کا زائل ہونا۔پھر لکھتے ہیں کہ آمن، امن پانے والا، بعض کے نزدیک اس سے مراد ہے اللہ کے حکم کے مطابق امن پانے والا اور اس لحاظ سے وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا (آل عمران : 98) کا معنی ہوگا کہ جو شخص حرم میں داخل ہو جائے نہ اس : سے قصاص لیا جاتا ہے نہ اس کے اندر قتل کیا جاتا ہے سوائے اس کے کہ وہ حرم کی حدود سے باہر آ جائے۔کہتے ہیں یہی مضمون ان آیات میں ہے۔فرما یا اَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا أَمِنًا (العنکبوت:68) کہ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک امن والا حرم بنایا ہے۔یہ معنی جو انہوں نے کئے ہیں اس سے بھی بہت وسیع معنی ہیں۔یہ اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلا اعلان ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ خانہ کعبہ اللہ کا گھر ہے۔جو بھی مسلمانوں کے حالات ہوئے یا ہیں، اللہ تعالیٰ نے ابھی تک ان کو توفیق دی ہے کہ اس کے تقدس کو قائم رکھیں بلکہ اصل میں تو کہنا یہ چاہئے کہ یہ تقدس اللہ تعالیٰ نے خود قائم کیا ہوا ہے۔اسلام سے پہلے بھی اس کا تقدس تھا۔عربوں کی جہالت کے زمانے میں بھی اس کی حیثیت حرم کی تھی اور امن کا نشان سمجھا جاتا تھا جبکہ ارد گرد کے ماحول میں اُس جہالت کے دور میں کسی بھی قسم کے امن کی ضمانت نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ کے اس امن والے گھر کی حفاظت بھی خدا تعالیٰ نے ہمیشہ خود فرمائی ہے۔قرآن کریم میں وہ واقعہ درج ہے جس میں اصحاب فیل سے محفوظ رکھا تھا۔اس لشکر کے سامنے اس وقت اہل مکہ کی کوئی حیثیت نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت فرمائی۔دنیا کو یہ بتادیا کہ یہ امن والا گھر میرا گھر ہے۔اس کو دنیا کے امن کے نشان کے طور پر میں نے بنایا ہے۔اس کی طرف جو بھی ٹیڑھی نظر سے دیکھے گا اس کی اپنی سلامتی اور امن کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔پھر یہ دوسری آیت کی مثال دیتے ہیں کہ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنَا ۖ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَقَامِ إِبْرَهِمَ مُصَلًّى وَ عَهِدْنَا إِلَى إِبْرَهِمَ وَاسْمَعِيلَ أَنْ طَهَرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ