خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 18

خطبات مسرور جلد پنجم 18 خطبہ جمعہ 12 جنوری 2007 ء گزشتہ دنوں میں جب میں جرمنی گیا تھا، وہاں بھی زیادہ مقصد اللہ تعالیٰ کے فضل سے مساجد کی تعمیر کے لئے ، سنگ بنیا دیا افتتاح کے لئے جانا تھا۔تین کا افتتاح بھی ہوا، سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ایک مسجد جرمنی ہالینڈ کے بارڈر پر ہے واپس آتے ہوئے اس کا افتتاح ہوا۔وہ ابھی مکمل نہیں ہوئی لیکن ان کی خواہش تھی کہ اس میں نماز پڑھ لی جائے اسی کو ہم افتتاح سمجھیں گے، اس کی تھوڑی سی فنشنگ رہتی ہے تو وہ انشاء اللہ تعالیٰ جلدی کر لیں گے۔وہاں ایک بہت بڑی مسجد مجلس انصار اللہ جرمنی نے بنائی ہے۔اس میں تقریباً سات آٹھ سونمازی نماز پڑھ سکتے ہیں اور مسجد کے طور پر جرمنی میں یہ سب سے بڑی مسجد ہے جو خاص اس مقصد کے لئے بنائی گئی ہے۔ہال وغیرہ نہیں بلکہ زمین پہ خاص طور پر مسجد کے مقصد کے لئے جو مسجد کھڑی کی گئی ہے، وہ ابھی تک جرمنی میں یہی بڑی مسجد ہے۔اس کے ساتھ گیسٹ ہاؤس بھی ہے ،ہمشنری ہاؤس بھی ہے، دفتر وغیرہ بھی ہیں۔پھر جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ سب سے بڑا بریک تھرو (Break Through) یا بڑی کامیابی جو ہے وہ مسجد برلن کا سنگ بنیا د تھا۔وہاں مخالفت زوروں پر ہے۔ابھی بھی مخالفین یہی کہتے ہیں کہ ہم اس مسجد کو بنے نہیں دیں گے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔گو کہ انتظامیہ کا خیال ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی کیونکہ قانونی تقاضے پورے ہو رہے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ہر طرح سے مدد فرماتا ہے اور یہ نظارے ہم دیکھتے رہے۔پہلے امیر صاحب کا خیال تھا کہ ایک مہینہ پہلے جلدی آ جاؤں تاکہ مسجد کا سنگ بنیا د رکھا جائے۔لیکن جب دسمبر میں میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت تک ان کو مسجد کی تحریری اجازت نہیں ملی تھی۔تحریری اجازت بھی میرے جانے کے بعد انہیں ملی ہے تو اس کے بعد کوئی قانونی روک نہیں تھی۔اس کے بغیر اگر ہم جاتے تو کئی قباحتیں پیدا ہو سکتی تھیں اور بنیا درکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔پھر وہاں کے میئر اور MP آئے اور انہوں نے بھی جماعت کی تعلیم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ہمارے لوگوں کی ساری فکریں دور ہو جائیں گی۔جس دن افتتاح تھا جب ہم وہاں گئے ہیں تو چالیس پچاس کے قریب مخالفین تھے جو نعرے لگارہے تھے۔لیکن جرمنی میں ایک دوسرا گروپ بھی ہمیں نظر آیا۔جب ہم گئے ہیں انہوں نے بھی بینر اٹھایا ہوا تھا اور وہ جماعت احمدیہ کے حق میں تھا کہ یہاں جماعت ضرور مسجد بنائے اور اس میں کوئی روک نہ ڈالی جائے۔جماعت نے ان کو نہیں کہا تھا اور نہ وہ جانتے تھے۔خود ہی کھڑے ہو گئے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے توڑ کے لئے خود ہی وہاں انتظام فرما دیا۔پھر یہ جو ان کا چھوٹا سا جلوس تھا اس پر بھی تین چار شہریوں نے ان کے بینر چھینے کی کوشش کی کہ یہ کیوں کر رہے ہو۔اللہ تعالیٰ نے خود ہی ایسا سامان پیدا کر دیا کہ مخالفین کو ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ان کے اپنے لوگ ہی ان کو روکنے والے تھے۔