خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 268

خطبات مسرور جلد پنجم 268 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء معذرت خواہانہ رویہ اپنانے یا اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔قرآن کریم کا ہر حکم حکمت سے پُر ہے جس کا مقصد حقوق اللہ اور حقوق العباد کا قیام ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اور خلفائے راشدین کے زمانے میں جو جنگیں لڑی گئیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی وجوہات بیان فرمائی ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ اس کی تین وجوہات ہیں۔نمبر ایک یہ کہ دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خود اختیاری، اپنی حفاظت اور دفاع کے لئے۔دوسرے بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون جب مسلمانوں پر حملے کئے گئے تو دشمن کو سزا دینے کے لئے ، ان سے جنگ کی گئی۔اسلامی حکومت تھی ،سزا کا اختیار تھا۔نمبر تین بطور آزادی قائم کرنے کے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔ان لوگوں کی طاقت توڑنے کے لئے جو اس وقت اسلام لانے والوں پر ظلم توڑتے تھے اور ان کو محض اس لئے قتل کیا جاتا تھا، اس لئے تکلیفیں دی جاتی تھیں کہ تم مسلمان ہو گئے ہو۔( مسیح ہندوستان میں ، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 12 اب ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ کی جو بھی صورت تھی ان صورتوں میں قرآنی تعلیم کیا ہے۔اس تعلیم کو دیکھ کر ایک عام عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ اُن حالات میں جن میں مسلمانوں کو قتال یا جنگ کی اجازت دی گئی تھی ، اگر اجازت نہ دی جاتی تو دنیا کا امن تباہ و برباد ہو جاتا اور سلامتی ختم ہو جاتی۔یہ اتنی خوبصورت تعلیم ہے کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، دوسرے مذہب کی کوئی بھی تعلیم ، نہ عیسائیت کی ، نہ یہودیت کی نہ کسی اور مذہب کی اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ۔(الحج : 40) ان لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا ہے، قتال کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کئے گئے اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔پھر فرمایا الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ۔وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ | بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ الله مَنْ يَّنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج : (41) کہ وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع، ان میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور یقینا اللہ اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔یقینا اللہ بہت طاقتور اور کامل غلبے