خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 267

خطبات مسرور جلد پنجم 267 26 خطبہ جمعہ 29 جون 2007 ء (فرمودہ مورخہ 29 جون 2007ء ( 29 /احسان 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے اصلاح اور انصاف قائم کرنے کی ، امن صلح اور سلامتی کی تعلیم کا ذکر کیا تھا اور اس بارے میں قرآنی احکامات بیان کئے تھے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے ہی دنیا میں صلح اور سلامتی کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے اور اس کی بنیاد تقویٰ پر منحصر ہے اور قرآن کریم میں تقویٰ پر قائم رہنے کا ایک مسلمان کو اس قدر تا کیدی حکم ہے اور بار بار حکم ہے کہ ایک مومن سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ دنیا کی بدامنی میں کوئی کردارادا کرسکتا ہے۔اس بارہ میں قرآن کی تعلیم کا اس حوالے سے میں نے ذکر کیا تھا کہ کسی مسلمان کو نہ انفرادی طور پر ، نہ حکومتی طور پر یہ زیبا ہے کہ کسی قوم سے دشمنی کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہ کرے۔اسلام ہر قوم سے صلح و آشتی کے تعلقات استوار کرنے کی ، قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے، سوائے ان کے جو براہ راست جنگوں کو مسلمانوں پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس ضمن میں آج مزید اسلامی قرآنی تعلیم کا ذکر کروں گا کہ کیوں اور کس حد تک جنگ کی اجازت ہے۔اور اگر بعض صورتوں میں جنگ نہ کی جائے جس کی اسلام نے ابتدائی زمانہ میں اجازت دی تھی تو کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں اور کیا بھیانک نتائج اس کے نکلتے ہیں یا اُس وقت نکلنے کا امکان تھا۔اس سے ثابت ہو گا کہ قتال کی اجازت دنیا کے امن وسلامتی کے لئے تھی نہ کہ دنیا میں فتنہ و فساد پیدا کرنے کے لئے جیسا کہ آج کل اسلام مخالف پروپیگنڈا کرنے والے شور مچارہے ہیں۔اگر ان مخالفین کا، یا ان کے ہمنواؤں کا ، یا ان کی حمایت میں کھڑے لوگوں کے اپنے مذہب اور ان کی حکومتوں کے عمل اور دنیا کے امن وامان کی اور سکون کی بربادی کی جو کوششیں یہ کر رہے ہیں ان کا ذکر شروع ہو تو ان کے لئے کوئی راہ فرار نہیں رہتی۔لیکن ہمارا مقصد دلوں کے کینوں اور بغضوں اور حسدوں کو مزید ہوا دینا نہیں ہے اس لئے قرآنی تعلیم کے بارے میں یہاں ذکر کروں گا جس سے کہ مزید یہ کھلے گا کہ جنگوں یا قتال کی جو اجازت ملی تھی وہ کن بنیا دوں پر تھی۔اس سے اسلام کی خوبصورت تعلیم مزید واضح ہوتی ہے۔یہ ایسی تعلیم ہے کہ کسی بھی دوسرے مذہب کی تعلیم کے مقابلے میں بڑی شان اور خوبصورتی سے اپنا مقام ظاہر کرتی ہے، اس کے پاس کوئی دوسری تعلیم پھٹک بھی نہیں سکتی۔پس اس بارے میں کسی بھی احمدی کو، کسی بھی معترض اسلام کا جواب دینے میں