خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 265
خطبات مسرور جلد پنجم 265 خطبہ جمعہ 22 جون 2007ء تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔اور اللہ سے ڈرو یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے۔فرماتے ہیں کہ ” آپ کو معلوم ہے کہ جو قو میں ناحق ستاویں اور دکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل وانصاف کو ہاتھ سے نہ دینا، یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے۔یہ تو آسان ہے کہ دشمن سے آدمی بیٹھ کر آرام سے بات کر لے لیکن یہ کہ دشمن کو بالکل بھول جانا اور پھر اس سے انصاف کرنا یہ بڑا مشکل کام ہے۔بہت دل گردے کا کام ہے۔فرماتے ہیں کہ پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ معیار محبت کا ذکر کیا۔کیونکہ جو شخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا اور سچائی اور انصاف سے در گزر نہیں کرے گا وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے۔( نور القرآن۔روحانی خزائن جلد نمبر 9 نمبر 2 صفحہ 410-409) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ محبت کرو بلکہ فرمایا کہ تمہارا محبت کا یہ معیار ہونا چاہئے کہ دشمن سے جو اپنی دشمنی کی انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔اس انتہاء کو، اس مثال کو سامنے رکھیں جو مکہ والوں نے مسلمانوں سے کی ، آنحضرت ﷺ سے کی قتل کئے ظلم کئے لیکن اس کے باوجود فرمایا کہ ایسے لوگوں سے بھی انصاف کرنا۔اس سے پھر محبت بڑھتی ہے اور یہ ہے وہ سلامتی کا پیغام جو دنیا کو حقیقت میں سلامتی پہنچانے والا بن سکتا ہے۔تو یہی ہے اسلام کی سچی تعلیم اور اس کے معیار۔جب سچی محبت ہوگی، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے تو سلامتی کا پیغام بھی پہنچے گا۔آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ بھی یہی تھا جس نے فتح مکہ کے موقع پر کفار کے بڑے بڑے سرداروں کو اسلام کی آغوش میں لا ڈالا۔آپ کا یہ اُسوہ دشمنوں کے لئے سلامتی کی پناہ گاہ بن گیا۔لَا تَـرِيب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا جو اعلان تھاوہ اس موقع پر اور ہمیشہ سلامتی کی خوشبو بکھیر تا چلا گیا۔تو یہ ہے وہ معراج جس سے دنیا کی سلامتی وابستہ ہے۔ورنہ دنیا کی جتنی بھی بڑی سے بڑی انصاف پسند حکومتیں ہیں وہ سازشیوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنتی رہیں گی۔وہ ایسی تنظیموں کے حکموں پر چلتی رہیں گی جن کے ہاتھ میں دنیا کی معیشت کی چابی ہے۔جو ظاہر تو دنیا کی سلامتی کی دعویدار ہیں لیکن عملاً بحرو بر میں خشکی و تری میں فساد بپا کئے ہوئے ہیں۔