خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 264

خطبات مسرور جلد پنجم 264 خطبہ جمعہ 22 جون 2007ء اب تو ثابت ہو رہا ہے کہ یہ لکھوائی گئی تھی۔تو اس پر بھی یہاں کے بعض تبصرہ نگاروں نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ یہ اب ثابت شدہ ہے کہ اس کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہے۔یہ اکیلا نہیں ہے۔اور اسلام کے خلاف ایک بڑی زبر دست سازش ہے کہ اسلام کے خلاف مزید رد عمل ظاہر کرنے کے لئے اس طرح بھڑ کا ؤ اور پھر اس موقع سے مزید فائدہ اٹھاؤ۔اور اس کا موقع مسلمان دے رہے ہیں۔دو چار جلوس نکالنے سے اور پھر خاموش ہو کر بیٹھ جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔جتنی بڑی سازش ہے یہ جھنڈے جلانے ، تصویر میں جلانے، پتلے جلانے یا جلوس نکالنے سے یہ سازش ختم نہیں ہو جائے گی۔ان چیزوں سے تو جو مقصد یہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حاصل کریں گے۔ان کے موقف کی مزید تائید ہوگی کہ اسلام ایسا ہی مذہب ہے۔تو بہر حال ایسی حرکتوں کا حقیقی رد عمل مسلمانوں میں پیدا ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کو پہلے سے بڑھ کر اپنے اوپر لاگو کریں تا کہ دنیا کے منہ خود بخود بند ہو جائیں۔آنحضرت ﷺ پر درود بھیجیں جس سے آپ کی اُمت روحانیت میں بھی ترقی کرنے والی ہو۔آپ کے اسوہ کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔لیکن یہ کام آج اگر کوئی کر سکتا ہے تو احمدی کر سکتا ہے جس نے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کو مانا ہے۔آج اگر معترضین کے جواب دے سکتے ہیں تو احمدی دے سکتے ہیں۔آج اگر اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کو دکھا سکتے ہیں تو احمدی دکھا سکتے ہیں۔پس آج احمدی کا فرض ہے کہ پہلے سے بڑھ کر اس بارے میں کوشش کرے، پہلے سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ پر درود بھیجے۔جب رشدی نے بدنام زمانہ کتاب لکھی تھی اس وقت حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ارشد احمدی صاحب سے اس کے جواب میں ایک کتاب لکھوائی تھی۔جس کا نام تھا Rushdi-Haunted by his unholy ghost۔اب سٹاک میں نہیں تھی ہاتھی تو بہت تھوڑی۔مزید کچھ تبدیلیاں بھی ہوئی تھیں ایک باب کا جو مزید اضافہ ہے جس کے بارے میں کچھ ہدایات حضرت خلیفہ اسیح الرابع " نے دی تھیں ان کو سمجھا گئے تھے تو میں نے انہیں کہا تھا کہ اس کو دوبارہ شائع کریں۔کچھ عرصہ ہوا ایک پبلشنگ کمپنی نے نام تو مجھے یاد نہیں رہا بہر حال اس نے اس کو شائع کیا تھا جو خود ہی اس کی مارکیٹنگ بھی کر رہے ہیں اور جماعت بھی اب اس کو شائع کر رہی ہے۔اب جلد انشاء اللہ آ جائے گی۔اس کا اُردو ترجمہ بھی ہو گیا ہے۔یہ پڑھے لکھے طبقے اور سنجیدہ طبقے کو دینی چاہئے تا کہ دنیا کے سامنے حقیقت بھی آئے۔تو یہ ہے خدمت جس سے اسلام کے اعلیٰ اخلاق کا بھی پتہ چلے گا اور دنیا کے فساد دور کرنے کے حقیقی راستوں کا بھی علم ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حکم دیتا ہے کہ دنیا کی سلامتی کا دار ومدار انصاف پر ہے اور انصاف کا معیار تمہارا کتنا بلند ہو، اس بارہ میں فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِيْنَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْط۔وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلَّا تَعْدِلُوا۔اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔(المآئدة : (9) کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی