خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 256
256 خطبہ جمعہ 15 / جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ایک اور حکم میں یہاں بیان کر دیتا ہوں جس نے آج کل بھائی کو بھائی سے دور کر دیا ہے۔چند سال پہلے جن میں مثالی محبت نظر آتی تھی اب بغض ، کینے اور حسد نے ان کو ایک دوسرے کے لئے اندھا کر دیا ہے اور وہ حکم جس پر عمل نہ کرنے سے یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ یوں مناہی فرمائی ہے۔فرمایا ك وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمُ بَيْنَكُمُ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُجَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة: 189) اور اپنے ہی اموال آپس میں جھوٹ فریب کے ذریعہ نہ کھایا کرو اور نہ تم انہیں حکام کے سامنے اس غرض سے پیش کرو کہ تم گناہ کے ذریعہ لوگوں کے ( یعنی قومی ) اموال میں سے کچھ کھا سکو۔تو یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔دوسرے کے مال کھانے کے لئے قومی مال نہ کھاؤ۔وہ بھی ایک وجہ ہے۔پھر رشوت دے کر غلط فیصلے اپنے حق میں نہ کراؤ۔ایک دوسرے کے مال پر نظر رکھنے سے، ایک دوسرے کی جائیداد پر نظر ر کھنے سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔کسی کی جائیداد کے بارے میں عدالت بے شک دوسرے کو حق بھی دلا دے لیکن اپنے اندر ہمیشہ ٹول کر دیکھنا چاہئے کہ کیا واقعی یہ میرا حق ہے ؟ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اس طرح تم آگ کا گولہ اپنے پیٹ میں ڈالتے ہو۔اس وجہ سے جہاں دو گھروں میں نفرتیں پلتی ہیں، معاشرے میں فتنہ وفساد پیدا ہوتا ہے۔نا جائز مال کھانے کی وجہ سے ایسے لوگ پھر اپنے گھر کی سلامتی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔پس اس بات کی بڑی سختی سے پابندی کرنی چاہئے اور ہمیشہ اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ کسی بھی صورت میں اپنے آپ کو سلامتی سے محروم کرنے والے نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ان چیزوں سے بچائے رکھے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔( مطبوعه الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 6 تا 12 جولائی 2007ء ص 5 تا 9 )