خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 255
خطبات مسرور جلد پنجم 255 خطبہ جمعہ 15 جون 2007ء رکھو اور اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔پھر قرآن کریم نے معاشرے کے کسی طبقے کی ضرورت کا بھی امکان نہیں چھوڑا۔فرمایا کہ بعض دفعہ بے وقوف یا کم علم والے اور ضرورت مند ہو سکتے ہیں۔تو ایک پاک معاشرے کا فرض ہے کہ اگر ایسے حالات ہوں تو کوئی صاحب عقل اور علم والا آدمی ان ضرورتمندوں کی نمائندگی کرے، ان کے لئے معاہدہ لکھوائے۔ورنہ ہو سکتا ہے کم علم والا معاہدہ لکھواتے ہوئے بعض ایسی شرائط نہ لکھ سکے یا لکھوا سکے جو اس کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔اس لئے ولی کا فرض ہے کہ ملکی قانون کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی نمائندگی کرے۔پھر فرمایا جب معاہدہ ہو جائے تو اس پر گواہ بنائے جائیں۔پہلے دو مردوں کا ذکر ہے کہ ان کو گواہ بناؤ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن پر تم دونوں فریق راضی ہو۔دو عورتیں گواہ رکھنے میں یہ حکمت ہو سکتی ہے کہ عموماً اس قسم کے کاروباری اور حسابی معاملات میں عورتیں کم دلچسپی رکھتی ہیں بلکہ یہاں ایک سوال اٹھا تو اسی بنا پر میں نے جائزہ لیا تو جو انفارمیشن (Information) مجھے ملی اس کے مطابق یہاں بھی براہ راست کا روبار میں یا فنانسز میں یا اکاؤنٹس میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت بہت کم ہے اور دلچسپی کم ہے۔پھر اسلام عالمگیر مذہب ہے۔بعض ممالک میں تو یہ دلچسپی بہت ہی کم ہے مثلاً پاکستان میں لے لیں، اس قسم کے تجارتی بکھیڑوں میں نہ عورتوں کی اکثریت کو دلچسپی ہے اور نہ اس میں پڑتی ہیں۔تو دو کی تصدیق اگر ضرورت پڑے تو گواہی کو مضبوط کر دیتی ہے اور دو مرد بھی اس لئے ہیں کہ دونوں کی گواہی ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہے۔پھر اگر معاہدے میں کوئی بدمزگی ہو جائے تو حکم یہ ہے کہ ان گواہان کو اگر کسی عدالت میں یا کہیں بھی گواہی کے لئے بلایا جائے تو پھر انکار نہیں کرنا۔خوشی سے وہاں پیش ہوں اور حقیقت حال کے مطابق اپنا بیان دیں تا کہ فیصلہ کر کے معاشرے کا سکون قائم رکھا جاسکے۔پھر فرمایا اگر دست بدست تجارت ہے، اگر خرید وفروخت براہ راست ہورہی ہے تو ٹھیک ہے اس میں تحریر نہ لو۔لیکن اس میں بھی بعض جھگڑا کرنے والے جھگڑوں کے بہانے تلاش کر ہی لیتے ہیں۔اس لئے ہمیشہ لینے والے کو اچھی طرح چھان پھٹک کر کے چیز لینی چاہئے تا کہ بعد میں کسی قسم کے جھگڑے نہ ہوں۔لیکن اگر کاروبار کی صورت میں لمبے معاہدے ہو رہے ہیں تو پھر اسی طرح لکھنا ہے اور گواہ مقرر کرنا ہے جس طرح پہلے قرض کے معاملے میں ذکر ہو چکا ہے۔لیکن یہاں بھی فرمایا کہ اللہ کا تقوی اختیار کرو اور دینے والا اور لینے والا دونوں ہمیشہ یہ مد نظر رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات انہیں ہمیشہ دیکھ رہی ہے۔اس کے علاوہ بھی قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر قرض اور لین دین کے معاملات کا ذکر ہے جس پر عمل کر کے محبت اور سلامتی کو پھیلایا بھی جاسکتا ہے اور اس کا قیام بھی کیا جا سکتا ہے۔