خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 254
254 خطبہ جمعہ 15 / جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ، کاروباری معاہدوں کی شرطیں، لین دین کی شرطیں ہمیشہ تحریر میں لایا کرو۔پہلی بات تو یہ کہ قرض کی مدت ہمیشہ مقرر کرو تا کہ لینے والے کو بھی یہ احساس رہے کہ میں نے فلاں عرصے کے اندر واپس کرنا ہے اور دینے والا بھی جس کو قرض دیا گیا ہے اس کو بار بار تنگ نہ کرے۔بعض دفعہ اتنا تنگ کرتے ہیں کہ قرض لینے والا سمجھتا ہے کہ میں ایک تو قرض لے کر زیر بار ہوں اور مزید اس پر پھر احسان ہوتا چلا جاتا ہے۔تو فرمایا کہ اس کی تحریر لے لیا کرو اور تحریر میں مدت مقرر کرنی ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ لیتے وقت لینے والے کو یہ احساس رہے گا کہ جو میں لے رہا ہوں اس کو مقررہ مدت میں ادا بھی کر سکتا ہوں کہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے بار بار جو تقویٰ کی شرط رکھی ہے تو اس شرط پر میں پورا اتر سکتا ہوں کہ نہیں۔اس لئے پھر قرض لینے والا اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے گا۔اس شرط سے ان لوگوں کی یہ دلیل بھی رڈ ہو جاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ شو د اس لئے مقرر کیا جاتا ہے اور ایک فائدہ اس کا یہ بھی ہے کہ سود کے خوف کی وجہ سے جلد قرض دار قرض ادا کر سکے یا اس کی کوشش کرے۔سُود کا تو اتنا خوف نہیں ہوتا جتنا ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔بیسیوں لوگ ہیں، کئیوں کو میں بھی جانتا ہوں، جو سود پر قرض لیتے ہیں اور پھر تمام زندگی قرض نہیں اتارتے ، پھر قرض پر قرض چڑھتا چلا جاتا ہے یا لڑائی اور جھگڑے اور فساد ہو جاتے ہیں اور یہ قرض پھر ان کی انگلی نسلیں بھی نہیں اتار سکتیں۔اگر حکومتی مالیاتی اداروں سے قرض لیا ہے تو اگر کسی طرح بچنے کی کوشش کی اور نہیں بچ سکے تو جیسا کہ میں نے پچھلے خطبے میں ذکر کیا تھا، پھر ایسے قرض لینے والے کی کوئی چھوٹی موٹی جائیداد ہو تو اس کی نیلامی ہو جاتی ہے، وہ اس سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔تو یہاں پہلے بتا دیا کہ اگر تقویٰ ہے تو پہلے سوچ لو کہ ادا بھی کر سکتے ہو کہ نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ وعدوں کی پابندی کی بڑی تلقین کرتا ہے۔پھر فرمایا کہ تمہارے درمیان کوئی تیسرا شخص جو انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہو یہ معاہدہ لکھے تاکہ کسی فریق سے بے انصافی نہ ہو اور پھر تعلقات کو قائم رکھنے کے لئے فرمایا کہ بعض دفعہ لینے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ قرض دینے والے نے پتہ نہیں کیا شرائط رکھوا دی ہیں تو اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حق قرض لینے والے کو دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے تم اس معاہدے کی تحریر لکھواؤ تا کہ واپسی کی جو مقررہ میعاد ہے اس میں کوئی جھگڑا کھڑا نہ کر سکو۔اس حکم کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو، ذہن میں رکھو کہ ایک مسلمان ہو اور مسلمان ہمیشہ معاہدوں کا پابند ہو جاتا ہے۔یہ سوچ کر معاہدہ نہ لکھواؤ کہ ابھی تو لے لو جب موقع ملے گا تو دیکھی جائے گی کہ واپس کرنا ہے کہ نہیں۔نہیں بلکہ ہمیشہ یادرکھو کہ اللہ کو جان دینی ہے اس لئے کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی جس سے معاشرے کا امن اور سکون برباد ہوتا ہو۔اگر سمجھتے ہو کہ واپسی کی استطاعت نہیں رکھتے اور نہ متوقع آمد اس کی متحمل ہوسکتی ہے اور نہ جائیداد اس قرض کی متحمل ہوسکتی ہے تو پھر معاہدہ نہ کرو، پھر قرض نہ لو۔تو مقروض کو پابند کرنے کے لئے فرمایا ہے کہ تمام امور پر غور کر کے پوری توجہ سے پھر تم معاہدہ لکھواؤ گے۔اور جو شرائط ہیں، بعد میں پھر ان میں سے کم کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے تو ہر موقع پر اللہ کا تقویٰ پیش نظر