خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 246

246 خطبہ جمعہ 15 / جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اپنے اوپر چڑھا کر آنے کا کوئی مقصد نہیں ہے کیونکہ اس سے نہ صرف اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہے ہوتے ہیں بلکہ حکم کی نافرمانی کر کے سلامتی سے بھی اپنے آپ کو محروم کر رہے ہوتے ہیں اور اگر حالات کی وجہ سے بروقت ادائیگی نہ ہو سکے تو خود بھی مشکل میں گرفتار ہو جاتے ہیں، اپنے بیوی بچوں کو بھی مشکل میں گرفتار کر رہے ہوتے ہیں۔گھروں کا سکون برباد کر رہے ہوتے ہیں۔یا جو صاحب حیثیت ہیں وہ یہ کر سکتے ہیں کہ پھر اس طریقہ پر عمل کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے کہ سارا سال رقم جوڑتے رہیں تا کہ بوجھ محسوس نہ ہو۔اور پھر بعض اور موقعوں پر بھی لوگ جو غیر ضروری اخراجات کے لئے قرض لے لیتے ہیں، یعنی شادی، بیاہ وغیرہ پر رسوم و رواج کے لئے۔پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں تو قرض کی لعنت بہت زیادہ ہے اور غریب ملکوں میں بھی ہے۔گزشتہ دنوں پاکستان کے حوالے سے ایک خبر تھی۔پنجاب گورنمنٹ نے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا ہے، پستہ نہیں پاس ہو گیا ہے یا نہیں کہ سودی کاروبار کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔یہ تو بڑی اچھی بات ہے لیکن مسلمان ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کے اپنے مالی نظام کو بھی سود کی لعنت سے پاک ہونا چاہئے ، اس کے لئے بھی ان کو کوشش کرنی چاہئے۔بہر حال سودی قرض کی یہ لعنت گھروں کو برباد کرنے کا باعث بنتی ہے۔احمدی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں تو اس سے بہت زیادہ بچنا چاہئے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے کسی نے ذکر کیا کہ بعض مجبوریاں ایسی ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے سودی قرضے لینے پڑ جاتے ہیں۔تو ہم اس پر کیا کریں؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ: جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، خدا اس کا کوئی سبب پردہ غیب سے بنادیتا ہے۔افسوس کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کہ متقی کے لئے خدا تعالیٰ کبھی ایسا موقع نہیں بنا تا کہ وہ سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔یا درکھو جیسے اور گناہ ہیں مثلاً زنا، چوری ایسے ہی یہ سود دینا اور لینا ہے۔کس قدر نقصان دہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا ، حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا۔معمولی زندگی میں ایسا کوئی امر ہی نہیں کہ جس پر اتنا خرچ ہو جو انسان سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔مثلاً نکاح ہے اس میں کوئی خرچ نہیں۔طرفین نے قبول کیا اور نکاح ہو گیا۔بعد ازاں ولیمہ سنت ہے۔سو اگر اس کی استطاعت بھی نہیں تو یہ بھی معاف ہے۔انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کے لئے خدا تعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں جو ان کی تباہی کا موجب ہے۔دیکھو سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے۔کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ؟ سؤ رکا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرة: 174) یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اللہ غفور رحیم ہے۔مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ