خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 227

227 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم طرح احسان کا تعلق بڑھا سکتے ہیں ، ان لوگوں کا کس طرح خیال رکھ سکتے ہیں جن سے رحمی رشتے بھی نہیں ہیں۔بعض عہدیداروں کے بارے میں بھی شکایات ہوتی ہیں کہ بیوی بچوں سے اچھا سلوک نہیں ہوتا۔پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں ، اس ظلم کی اطلاعیں بعض دفعہ اس کثرت سے آتی ہیں کہ طبیعت بے چین ہو جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا انقلاب پیدا کرنے آئے تھے اور بعض لوگ آپ کی طرف منسوب ہو کر بلکہ جماعتی خدمات ادا کرنے کے باوجود ، بعض خدمات ادا کرنے میں بڑے پیش پیش ہوتے ہیں اس کے باوجود، کس کس طرح اپنے گھر والوں پر ظلم روا ر کھے ہوئے ہیں۔اللہ رحم کرے اور ان لوگوں کو معقل دے۔ایسے لوگ جب حد سے بڑھ جاتے ہیں اور خلیفہ وقت کے علم میں بات آتی ہے تو پھر انہیں خدمات سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔پھر شور مچاتے ہیں کہ ہمیں خدمات سے محروم کر دیا تو یہ پہلے سوچنا چاہئے کہ ایک عہدیدار کی حیثیت سے ہمیں احکام قرآنی پر کس قدر عمل کرنے والا ہونا چاہئے۔سلامتی پھیلانے کے لئے ہمیں کس قدر کوشش کرنی چاہئے۔پھر اسی آیت میں ایک یہ حکم ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیموں سے بھی احسان کا سلوک کرو کیونکہ یہ معاشرے کا کمزور طبقہ ہے پھر فرمایا مسکینوں سے بھی حسن سلوک کرو۔یہ دونوں طبقے یعنی یتیم اور مسکین معاشرے کے کمزور ترین طبقے ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔اگر ان پر ظلم ہو رہا ہے تو ان کے خلاف کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہوتا اور پھر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یہ کمزور طبقے رد عمل کے طور پر پھر فساد کی وجہ بنتے ہیں۔اور فساد کی وجہ اس طرح ہے کہ پہلے چھوٹی چھوٹی باتوں اور برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔پھر مفاد اٹھانے والے گروہ ان لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔معاشرے کے خلاف ان کے ذہنوں میں زہر بھرتے ہیں۔ایسا مایوس طبقہ جس کے حقوق رڈ کئے گئے ہوں، پھر یہ جائز سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی وہ اپنا حق لینے کے لئے کر رہا ہے ، وہ جو مرضی چاہے حرکتیں کر رہا ہو وہ ٹھیک کر رہا ہے۔اس کو یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کے یہ ہمدرد ہی اس کے خیر خواہ ہیں جو حقیقت میں اس کو معاشرے میں فساد پھیلانے کے لئے استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔غریب ملکوں میں اگر جائزہ لیں تو ایسے یتیم جن کے خاندانوں نے ، ان کے عزیزوں نے ان کا خیال نہیں رکھا یا اس حیثیت میں نہیں کہ خیال رکھ سکیں خود بھی غربت نے انہیں پیسا ہوا ہے ایسے محروم بچے پھر تربیت کے فقدان کی وجہ سے بلکہ مکمل طور پر جہالت میں پڑ جانے کی وجہ سے تعمیری کام نہیں کر سکتے اور پھر ان لوگوں کے ہاتھ میں چڑھ جاتے ہیں جو ان سے ناجائز کام کرواتے ہیں۔اسی طرح ایسے لوگ جو کثیر العیال ہوں جن کی اولاد میں بہت زیادہ ہیں، بچے زیادہ ہوتے ہیں ، ان کی پرورش نہیں کر سکتے ، وہ اپنے بچوں کو ، مثلاً میں نے پاکستان میں دیکھا ہے۔مدرسوں کے سپر د کر دیتے ہیں، بیشمار بچے جو مدرسوں میں ہیں وہ غریبوں کے بچے ہیں۔گو وہاں بظاہران کی دینی تعلیم ہورہی ہوتی ہے لیکن ایک بڑی تعداد مذہب