خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 220

خطبات مسرور جلد پنجم 220 خطبہ جمعہ 25 رمئی 2007 ء راستہ ہے۔جس پر چلنے کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے اور جس پر چل کر ایک مومن ہدایت پاتا ہے، اندھیروں سے نور کی طرف آتا ہے۔آج ہم دُنیا کے ان اندھیروں کو جو ہدایت اور سلامتی کے راستوں سے بھٹکانے والے ہیں دیکھتے ہیںتو اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور ہونی چاہئے جس نے ہمیں اس زمانہ کے امام کو مانے کی توفیق عطا فرمائی اور اس کی جماعت میں شامل فرمایا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا حق ادا کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔ایک دعا کی طرف بھی اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی تعلیم ہمیشہ یہ رہی ہے اور انشاء اللہ رہے گی کہ پیار اور محبت کا پیغام تمام دنیا تک پہنچانا ہے۔اگر اسلام اور جماعت کے خلاف غلط پرا پیگنڈہ کیا جاتا ہے تو بغیر کسی گالی گلوچ کے ہم دلائل سے اس کا جواب دیتے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ دیتے رہیں گے۔یہ ہمارا فرض ہے اور اسلام کی سربلندی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام جس سے پیار، محبت اور سلامتی کے چشمے پھوٹتے ہیں دنیا میں پھیلانا ہمارا مقصد ہے اور عشق رسول عربی ﷺ ہماری جان ہے۔آپ کے عاشق صادق احمد ہندی علیہ الصلوۃ والسلام سے وفا ہم پر فرض ہے کہ آج اسلام کی صحیح تصویر ہم نے اس مسیح و مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی دیکھی ہے۔یہ وہ چیزیں ہیں جن کی خاطر ہم اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کر سکتے ہیں لیکن اس سے بے وفائی کے مرتکب نہیں ہو سکتے ، اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔بہر حال میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ گزشتہ چند سالوں سے عرب ممالک میں اسلام پر عیسائیت کی طرف سے ایسے حملے کئے جا رہے تھے جن کا جواب عام مسلمانوں کو تو کیا بلکہ علماء کے پاس بھی نہیں تھا اور نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے جب تک وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام سے فیض نہ پائیں۔تو اس کے جواب کے لئے ہمارے عرب بھائیوں نے ایم ٹی اے کے دونوں ون (One) اور ٹو (Two) چینلز پر پروگراموں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے شکریہ کے بے شمار خطوط اور فیکس عامتہ المسلمین کی طرف سے بھی اور بڑے بڑے سکالرز کی طرف سے بھی آئے کہ ہم تو بڑے بے چین تھے کہ کوئی ان کا جواب دے، ہمارے پاس تو کوئی جواب نہیں تھا۔آپ لوگوں نے جواب دے کر ہمارے دلوں کی تسلی اور تسکین کے سامان پیدا کئے ہیں۔ہم نے اس چینل پر عیسائی علماء کو بھی بولنے کا موقع دیا تھا۔جب سوال جواب ہوتے تھے تو میں نے یہ دیکھا ہے کہ بعض دفعہ وہ دوسرے سوال کرنے والے یا عیسائی، ہمارے جو جواب دینے والے بیٹھے ہوتے تھے ان سے زیادہ وقت لے رہے ہوتے تھے۔بہر حال دونوں طرف کھل کر ڈسکشن (Discussion) کا موقع دیا جاتا تھا۔بحثیں ہوتی تھیں تو لوگوں پر حق واضح ہوا ، اور حق کھل گیا۔