خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 219

خطبات مسرور جلد پنجم 219 خطبہ جمعہ 25 رمئی 2007 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ آپس کی مخالفت کی وجہ سے غلبہ کی بجائے اسلام دن بدن تنزل کی طرف جا رہا ہے اس کی آج ہم واضح مثالیں دیکھ رہے ہیں۔گواحمدیت کے خلاف تو سارے ایک ہیں لیکن آپس میں سب پھٹے ہوئے ہیں۔اگر کہیں اکٹھے ہو جا ئیں تو ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں نہیں پڑھ سکتے۔خود کش حملے کر کے مسلمان ، مسلمان کو مار رہا ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔گزشتہ دنوں ARY پر میں نے اتفاق سے ایک پروگرام دیکھا۔ہندوستان اور پاکستان کے بہترین تعلقات بنانے کی طرف کس طرح توجہ کی جائے اس پر بحث ہورہی تھی۔ایک تبصرہ نگار اور عالم پاکستان کی طرف سے تھے اور ایک ہندوستانی مسلمان اور ایک شاید ہندو تھے تو بات کا رخ اس طرف ہوا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کا رونا روتے ہو کہ ان سے اچھا سلوک نہیں ہورہا مسلم ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور پھر ان کے اندر آپس میں فرقوں میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔جو ہندوستانی مسلمان تھے وہ ایران کی مثال دے کر کہنے لگے کہ وہاں شیعوں کی اکثریت ہے۔سُنیوں کے ساتھ وہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا اور احمدیوں کے ساتھ اگر ہو تو کیا کچھ نہیں کریں گے۔تو اس پروگرام میں جو مولانا صاحب تھے ان سے اور تو کوئی جواب نہیں بن پڑا وہ اور اس پروگرام کے جو کمپیئر تھے فوراً بولے کہ احمدیوں کو چھوڑیں وہ تو غیر مسلم ہیں۔تو یہ حالت ہے آج کل کے مسلمانوں کی ، کہ آپس کے تعلقات تو ٹھیک ہیں ہی نہیں اس کو تو چھوڑو، اس بات کو تو ٹال جاتے ہیں۔اگر دوسروں کے ساتھ تعلقات رکھنے ہوں، جن کو غیر مسلم سمجھتے ہیں ان کو بھی چھوڑ و کیونکہ وہ غیر مسلم ہیں۔پس یہ سلامتی بکھیر نہیں سکتے۔احمدیوں پر ظلم اس لئے جائز ہے کہ یہ بھی غیر مسلم ہیں۔ان کو یہ پتہ نہیں چل رہا کہ آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت پر یہ ظلم روا ر کھنے کی وجہ سے ہی ان کے اندر سے سلامتی اٹھ رہی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے تمام دنیا میں روحانیت اور علم و عرفان کا جھنڈا لہرایا تھا اپنے ملکوں میں ہی غیروں کے ہاتھوں محکوم اور مجبور بنے بیٹھے ہیں۔کہنے کو تو آزاد ہیں لیکن اُن کا بھی وہی حال ہے کہ اُن کی جان ایک بوتل میں بند ہے اور وہ بوتل ایک جن کے پاس ہے، جس کے لئے ہر وقت جن پر نظر کئے رکھتے ہیں، کیونکہ اپنے پاس طاقت نہیں رہی اور طاقت زائل ہونے کی وجہ سے جن پر نظر کئے بغیر گزارہ نہیں ہے۔پس یہ مسلمانوں کی حالت ہے، ان کے لئے دعا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے۔کاش کہ یہ اس سلامتی کے پیغام کو سمجھیں جو اس زمانے میں اب آنحضرت ﷺ کے اس عاشق صادق کے ذریعہ سے ہی مقدر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، جماعت احمد یہ ہی سیدھی راہ پر چل رہی ہے جو نبی کریم ﷺ نے بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم میں سے ہر ایک اس راستے پر چلنے والا ہو جو صراط مستقیم کا