خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 209
خطبات مسرور جلد پنجم 209 خطبہ جمعہ 18 مئی 2007 ء پڑ جاتی ہے کہ ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں تو ایسے معاملات کو پھر نظام جماعت میں رکھنا چاہئے یا عدالت میں لے جانا چاہئے تاکہ معاشرے کی سلامتی قائم کرنے کا جو مقصد ہے وہ پورا ہو سکے۔پھر شکر کی عادت ہے۔یہ نیک اعمال میں سے ایک عمل ہے۔شکر سلامتی پھیلانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس ہو میں ایک تو بندوں کی شکر گزاری ہے۔دوسرے خدا تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔اور خدا کے بندوں کی شکر گزاری ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کا بھی شکر گزار بناتی ہے۔پھر نیک اعمال میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہیں۔عدل قائم کرنا ہے اور جس معاشرے میں عدل قائم ہے گا ، انصاف کے تقاضے پورے کئے جارہے ہوں گے تو پھر وہاں پر امن اور سلامتی کی فضا بھی ہوگی اور اسلام کی صحیح تصویر بھی کھینچی جارہی ہوگی۔لیکن بدقسمتی سے آج بہت سے مسلمان ممالک میں انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔آج کل پاکستان میں دیکھ لیں کیا ہو رہا ہے نہ عدلیہ انصاف کے تقاضے پورے کر رہی ہے، نہ حکومت انصاف کے تقاضے پورے کر رہی ہے۔اگر جج ہیں تو وہ اپنی اناؤں میں گرفتار ہیں۔اپنے مفاد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں ہیں تو وہ وکیلوں اور جوں کو اپنے پیچھے لگا کر اپنا تو سیدھا کر رہی ہیں، اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔حکومت ہے تو انصاف کے تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے اس کے بس میں کچھ نہیں رہا۔نتیجتا اثر کس پر پڑ رہا ہے؟ ایک عام شہری پر ، ایک غریب آدمی پر جو اپنی زندگی سے ہاتھ دھورہا ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر نہ چلنے کا نتیجہ ہے کہ دوسرے تو دُور کی بات ہے اپنے ہی اس سلامتی سے بے فیض ہورہے ہیں جس کی مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے، جس کی طرف اُن کو جو اسلام سے منسوب ہونے والے ہیں توجہ دلائی گئی ہے۔اور باوجود اس کے کہ یہ ایک بنیادی حکم ہے، لیکن مسلمان ہو کر اس سے فیض نہیں اٹھا ر ہے۔تو ان لوگوں کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ یہ کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔یہ اس زمانے کے امام کے انکار کی وجہ سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے کھڑا کیا کہ سلامتی کا پیغام دنیا میں پھیلائے۔ایک شخص نے خدا کے نام پر دعویٰ کیا ہے کہ سچائی اور سلامتی اب میرے ساتھ ہے اور میرے ساتھ خدائے قادر کا وعدہ ہے اور زمانے کا امام یہ اعلان کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تمہارے ساتھ سلامتی ہے۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ: مجھے میرے خدا نے مخاطب کر کے فرمایا ہے : الْاَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُوَ مَعِى۔قُلْ لِيَ الْأَرْضُ | وَالسَّمَاءُ قُلْ لِى سَلَامٌ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيتٍ مُقْتَدِرٍ۔إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ۔يَأْتِي نَصْرُ اللَّهِ۔إِنَّا سَتُنْذِرُ الْعَالَمَ كُلَّهُ إِنَّا سَتَنزِلُ أَنَا اللهُ لَا إِلهُ إِلَّا أَنَا۔یعنی آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔کہہ آسمان اور زمین میرے لئے ہے۔کہہ میرے لئے سلامتی ہے۔وہ سلامتی جو خدا قادر کے حضور میں سچائی کی نشست گاہ میں ہے۔خدا اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں اور جن کا