خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 11

11 خطبہ جمعہ 12 جنوری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم رہیں۔اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہم شامل ہوئے ہیں تو اس محبت اور اخلاص کا تقاضا ہے کہ اصلاح اور تربیت کے لئے جب مالی قربانی کی ضرورت پڑے تو ہر احمدی ہمیشہ اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے قربانی میں آگے سے آگے بڑھتار ہے۔اسی طرح جو مختلف ملکوں کے نو مبائعین ہیں انہیں بھی یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہماری ضرورتیں باہر کی جماعتیں پوری کریں گی۔ہر جماعت نے اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا ہے تا کہ تربیت و تبلیغ کے دوسرے منصوبوں پر توجہ دی جائے۔جماعت کی ترقی کے دوسرے منصوبوں پر توجہ دی جائے جن کے لئے بہت سے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔آج کل کے اس ترقی یافتہ دور میں جب ایک طرف ایجادات کی ترقی ہے تو ساتھ ہی اخلاقی گراوٹ کی بھی انتہا ہو چکی ہے۔اپنی نسلوں کو اس سے بچانے اور دنیا کو صحیح راستہ دکھانے کے لئے بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے اور ظاہر ہے اس کام کو سرانجام دینے کے لئے فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے، رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔جس طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس وقت محسوس کیا تھا کہ تربیت کی بہت ضرورت ہے، آج کل بھی کافی تعداد کے لئے اور جونو مبائعین آ رہے ہیں ان کے لئے جس وسیع پیمانے پر ہمیں منصوبہ بندی کرنی چاہئے وہ ہم نہیں کر سکتے۔اس میں بہت سی وجوہات ہیں اور ایک بڑی وجہ مالی وسائل کی کمی بھی ہے۔گو کہ ہم جتنا کام پھیلاتے ہیں اللہ تعالیٰ کام پورا کرتا ہے۔لیکن جب وہاں تک پہنچتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ اس سے زیادہ بھی کر سکتے تھے۔اگر ہر جگہ معلم بٹھا ئیں اور بہت سارے افریقین ممالک ہیں، ہندوستان کی بعض جماعتیں ہیں، جہاں بجلی کا انتظام نہیں ہے وہاں بجلی کا انتظام کر کے ایم ٹی اے مہیا کریں جو ایک تربیت کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور اسی طرح کی اور منصوبہ بندی کریں تو اس کے لئے بہت بڑی رقم کی ضرورت ہے۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوشش کرتی ہے کہ کم از کم وسائل کو زیر استعمال لا کر زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے۔یہ معاشیات کا سادہ اصول ہے۔اور دوسری دنیا میں تو پتہ نہیں اس پر عمل ہو رہا ہے کہ نہیں لیکن جماعت اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور کرنی چاہئے۔جو بھی جماعتی عہدیدار منصوبہ بندی کرنے والے یا کام کرنے والے یا رقم خرچ کرنے والے مقرر کئے گئے ہوں ان کو ہمیشہ اس کے مطابق سوچنا چاہئے اور منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔بعض دفعہ بے احتیاطیاں بھی ہو جاتی ہیں اس لئے جیسا کہ میں نے کہا کہ جو ذمہ دار افراد ہیں وہ اس بات کا ہمیشہ خیال رکھا کریں کہ جماعت کا ایک ایک پیسہ با مقصد خرچ ہونا چاہئے۔جماعت میں اکثریت ان غریب لوگوں کی ہے جو بڑی قربانی کرتے ہوئے چندے دیتے ہیں اس لئے ہر سطح پر نظام جماعت کو اخراجات کے بارے میں احتیاط کرنی چاہئے کہ ہر پیسہ جو خرچ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خرچ ہو اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی پر خرچ ہو۔جب تک ہم اس روح کے ساتھ اپنے اخراجات کرتے رہیں گے، ہمارے کاموں میں اللہ تعالیٰ بے انتہا برکت ڈالتا رہے گا