خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 208
208 خطبہ جمعہ 18 مئی 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم جھگڑے ہوتے ہیں، اسی طرح معاشرے میں دوسرے جھگڑے ہوتے ہیں۔ان میں بھی بعض تو حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو بدظنیوں کی پیداوار ہوتے ہیں اور گھروں کے امن وسکون کو برباد کر رہے ہوتے ہیں۔پھر یہ بدظنی ہی ہے جس نے آج مسلمانوں کو زمانے کے امام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے سے روکا ہوا ہے اور اسی وجہ سے اب جبکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو نہیں مانتے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لینے والے ہوتے ہیں اور اس کے بد نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔اس کا اب یہ خمیازہ بھگت رہے ہیں۔پھر نیک اعمال میں سے سچائی کا استعمال ہے اور ایک احمدی کو ہمیشہ یہ یا درکھنا چاہئے کہ جھوٹ کی وجہ سے ایمان بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے اور یہ چیز اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والی بن جاتی ہے۔پس السلام خدا سے فیض پانے کے لئے سچائی پر چلنا اور اس حد تک اس پر قائم ہونا ہے کہ جو چاہے حالات گزر جائیں، اپنا نقصان بھی ہو جائے تو بھی سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔پھر عفو ہے، معاف کرنا ، درگزر کرنا۔ایسا عفو کہ جس سے امن اور محبت و پیار بڑھتا ہو۔یہ بڑا ضروری ہے۔ایک احمدی معاشرے میں اس بات کو رواج دینے کی بہت کوشش کرنی چاہیئے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ایسا عفو کہ جس سے امن و محبت اور پیار بڑھتا ہو۔لیکن اگر ایک عادی مجرم کو عفو سے کام لیتے ہوئے درگزر کرتے چلے جائیں گے، معاف کرتے چلے جائیں گے تو وہ معاشرے کے امن وسکون کو برباد کرنے والا ہو گا۔بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ غلطیاں کرتے ہیں اور کرتے جاتے ہیں۔ان کی سفارشیں کرنے والے بھی بہت سارے ہوتے ہیں۔احمدی کی سوچ اس سے بہت بالا ہونی چاہئے کیونکہ پھر جو عادی مجرم ہوں ان سے کسی کو سلامتی نہیں مل سکتی۔ہاں تکلیفیں اور پریشانیاں ضرور ملیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ مخواہ ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ محل اور موقع گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا ہے۔پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الوقت بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے اور بھی دلیر ہو جاتا ہے۔پس خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ اندھوں کی طرح صرف گناہ کے بخشنے کی عادت نہ ڈالو بلکہ دیکھ لیا کرو کہ حقیقی نیکی کس بات میں ہے، آیا بخشنے میں یا سزا دینے میں۔پس جو امر محل موقع کے لحاظ سے ہو وہ کرو، جو اصلی تعلیم خدا تعالیٰ کی ہے وہی کرو۔تو یہ ہے تعلیم جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ دنیا میں امن قائم کرنا ہے نہ کہ ایسے فیصلے کرنے ہیں جن سے معاشرے کا امن برباد ہوتا ہو۔ایک مسلمان کا اصل کام یہ ہے کہ سلامتی پھیلانے والا ہو۔اس لئے اگر سزا سے دوسروں کے لئے سلامتی ہے تو سزا ضروری ہے۔لیکن یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ افراد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کسی کو سزا دیتے پھریں۔کیونکہ بعض دفعہ اناؤں کی وجہ سے صحیح فیصلہ نہیں کر پاتے پھر اپنے حقوق ہوتے ہیں تو اس لئے بھی صحیح فیصلہ نہیں کر پاتے اور ختی کا رجحان ہوتا ہے تو ایسے موقعوں پر ہمیشہ جب بھی کوئی آپس میں معاملات ہوں ، بعض دفعہ کا روباری لوگوں کے معاملات آتے ہیں یا دوسرے ایسے معاملات آتے ہیں جن میں ایک دوسرے سے روزمرہ کی ڈیلنگ (Dealing) ہو رہی ہوتی ہے اور بعض لوگوں کو روزمرہ کی یہ عادت