خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 204
خطبات مسرور جلد پنجم 204 خطبہ جمعہ 18 مئی 2007 ء پر اکتفا نہ کریں کہ الحمد للہ میں مسلمان ہوں، بلکہ اس رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کریں جو اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں تبھی اسلام کے فیض سے اور صفت السّلام کے فیض سے فیضیاب ہو سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” واضح ہو کہ لغت عرب میں اسلام اس کو کہتے ہیں کہ بطور پیشگی ایک چیز کا مول دیا جائے اور یا یہ کہ کسی کو اپنا کام سونپیں اور یا یہ کہ صلح کے طالب ہوں اور یا یہ کہ کسی امر یا خصومت کو چھوڑ دیں۔اور اصطلاحی معنی اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بلی مَنُ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: 113) یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوے۔مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو درحقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالص اللہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خدا داد توفیق سے وابستہ ہیں بجالا وے، مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 57-58) قرآن کریم میں سلامتی کے حوالے سے مختلف نصائح بھی ہیں اور نیک اعمال کرنے والوں کے لئے سلامتی کا ذکر بھی آیا ہے۔وہ کس طرح ہے؟ سورۃ القصص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغَوَ اَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَمٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الجهِلِينَ۔(القصص : 56) یعنی اور جب وہ کسی لغو بات کو سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں تم پر سلام ہو ، ہم جاہلوں کی طرف رغبت نہیں رکھتے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کی پیروی کرنے کے لئے ، خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جو وقف کر دے گا، تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی یہ ہے کہ لغویات کا جواب لغویات سے نہیں دینا۔احمدی سلامتی پھیلانے والا ہے اس لئے ان چیزوں سے بچو۔بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ جو ہے کہ تم پر 66 سلام ہو سلمٌ عَلَيْكُمُ “ یہ اس قماش کے لوگوں کو جو فساد پھیلانے والے ہیں اُن کو دعا دینے کے معنوں میں نہیں آتا بلکہ بچنے کے معنوں میں ہے اور بچنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے کہ ہم تمہارے جیسے گندے اعمال نہیں کر سکتے ، ہم تو اس سے بچتے ہیں۔گالیاں دیتے ہو، قانون توڑتے ہو تو یہ تمہارا انعل ہے۔ہمیں تو حکم ہے کہ اس فساد سے بچیں۔اس لئے احمدی نہیں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا اور اس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کبھی جواب نہیں دیتا اور یہ بات اس حکم کے تحت ہے کہ لغویات سے بچو۔اُن کو کہو کہ تم جو حرکتیں اللہ اور رسول کے نام پر کر رہے ہو ان سے ہم اس