خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 203

خطبات مسرور جلد پنجم 203 (20) خطبہ جمعہ 18 مئی 2007 ء (فرموده مورخہ 18 مئی 2007ء 18 ہجرت 1386 ہجری منشی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ہزار ہزار شکر اس خداوند کریم کا ہے جس نے ایسا مذہب ہمیں عطا فرمایا جو خدا دانی اور خداترسی کا ایک ایسا ذریعہ ہے۔یعنی خدا کو پہچاننے ، جاننے اور خدا سے ڈرنے یا تقویٰ اختیار کرنے کا ایک ذریعہ ہے جس کی نظیر کبھی اور کسی زمانے میں نہیں پائی گئی۔اور ہزار ہادرود اس نبی معصوم پر جس کے وسیلہ سے ہم اس پاک مذہب میں داخل ہوئے۔اور ہزار ہا رحمتیں نبی کریم کے اصحاب پر ہوں جنہوں نے اپنے خونوں سے اس باغ کی آبپاشی کی۔اسلام ایک ایسا بابرکت اور خدا نماند ہب ہے کہ اگر کوئی شخص بچے طور پر اس کی پابندی اختیار کرے اور ان تعلیموں اور ہدایتوں اور وصیتوں پر کار بند ہو جائے جو خدائے تعالیٰ کے پاک کلام قرآن شریف میں مندرج ہیں تو وہ اسی جہان میں خدا کو دیکھ لے گا“۔براهین احمدیه حصه پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحه 25 پس خدا انما مذہب سے فیض اٹھانے کے لئے بچے طور پر اُس کی پابندی اختیار کرنی ہوگی اور کچی پابندی کس طرح اختیار کی جاسکتی ہے؟ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ ان ہدایتوں اور وصیتوں اور تعلیموں پر کار بند ہونا ہو گا۔ان پر مکمل عمل کرنا ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بتائی ہیں۔اور یہ ہدا یتیں ، یہ احکامات جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے ، ایک جگہ فرمایا پانچ سو اور ایک جگہ فرمایا سات سو ہیں ، جو قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔اگر مزید جزئیات میں جائیں تو شاید اس سے بھی زیادہ ہو جا ئیں گی۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس عظیم مذہب کا نام جو اسلام رکھا ہے تو اس لئے کہ اس میں ہر حکم جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں دیا ہے، اس کا آخری نتیجہ امن، محبت، پیار اور بھائی چارے کا قیام ، تمام برائیوں کو چھوڑنا اور انتہائی کوشش سے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔اور یہی چیزیں ہیں جو خدا تعالیٰ کا دیدار کرواتی ہیں۔اس خدا کا اپنا نام بھی السلام ہے، جو ہمارا خدا ہے، جو ہر مومن سے اُن نیک اعمال کی وجہ سے اس دنیا میں بھی اور مرنے کے بعد کی اخروی زندگی میں بھی سلامتی کا وعدہ کرتا ہے۔پس اگر غور کریں تو مسلمان ہونے کے بعد ایک عظیم ذمہ داری کا احساس ابھرتا ہے، اور ابھرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نام سے موسوم کر رہا ہے جو اس کا اپنا نام ہے اور یہ چیز یقیناً اس طرف توجہ دلاتی ہے اور دلانے والی ہونی چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے بعد صرف منہ سے یہ کہنے